متحدہ عرب امارات میں سوشل میڈیا پر توہین آمیز تبصرے 5 لاکھ درہم جرمانے اور قید کا باعث بن سکتے ہیں

usaee 2010 d


دبئی: متحدہ عرب امارات کے حکام نے سوشل میڈیا صارفین کو خبردار کیا ہے کہ آن لائن کسی شخص کی توہین، ہتکِ عزت یا اس کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والے الزامات لگانے پر قید اور 5 لاکھ درہم تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
یہ انتباہ وزارتِ داخلہ، دبئی پولیس اور دبئی الیکٹرانک سیکورٹی سینٹر کی مشترکہ مہم ’’دی یو اے ای اِز سیف وِد یور ڈجیٹل اویئرنیس‘‘ کے تحت جاری کیا گیا ہے، جو سائبر سیکورٹی آگاہی ماہ کے موقع پر شروع کی گئی۔
حکام نے وفاقی قانون نمبر 34 برائے 2021، انسدادِ افواہوں اور سائبر جرائم کی دفعہ 43 کا حوالہ دیا۔ اس کے مطابق انفارمیشن نیٹ ورک یا ڈیجیٹل ذرائع سے کسی کی توہین کرنے یا ایسا الزام عائد کرنے پر جو اسے سزا یا عوامی تحقیر کا باعث بنے، ملزم کو قید اور 2 لاکھ 50 ہزار سے 5 لاکھ درہم تک جرمانہ، یا ان میں سے کوئی ایک سزا دی جا سکتی ہے۔
قانون کے مطابق اگر یہ جرم کسی سرکاری عہدیدار یا عوامی خدمت سے وابستہ شخص کے خلاف اس کے سرکاری فرائض کے دوران یا انہی فرائض کی وجہ سے کیا جائے تو سزا کی سنگینی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
مہم میں صارفین سے کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر ذاتی حملوں، تمسخر، توہین آمیز زبان اور غیر مصدقہ الزامات سے گریز کریں۔ حکام نے واضح کیا کہ آن لائن شائع ہونے والے تبصرے بھی قانونی کارروائی کی بنیاد بن سکتے ہیں، اس لیے کچھ بھی لکھنے یا شیئر کرنے سے قبل اس کے اثرات پر غور کرنا ضروری ہے۔

متعلقہ پوسٹ