اسلام آباد ( رپورٹ محمد سلیم سے )
وزیراعظم محمد شہباز شریف اور مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کے درمیان منگل کو وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات ہوئی، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔
وزیراعظم نے وزیراعظم ہاؤس آمد پر مالدیپ کے صدر کا استقبال کیا اور ان کے اعزاز میں گارڈ آف آنر کی تقریب منعقد کی گئی۔ صدر معیزو نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا اور وزیراعظم ہاؤس میں یادگار کے طور پر پودا بھی لگایا۔
مذاکرات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور مالدیپ کے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مالدیپ کے ساتھ دیرینہ برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے اور اس کی قومی ترقی کی ترجیحات میں تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
مذاکرات میں اقتصادی تعاون کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، سیاحت، غذائی تحفظ، ادویات اور نجی شعبے کے درمیان شراکت داری بڑھانے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے فضائی اور بحری رابطوں کو بہتر بنانے اور مشترکہ اقتصادی کمیشن کا اجلاس جلد منعقد کرنے پر زور دیا۔
وزیراعظم اور مالدیپ کے صدر نے اگلے دو سال میں دوطرفہ تجارت موجودہ ایک کروڑ 34 لاکھ ڈالر سے بڑھا کر 20 کروڑ ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا۔
وزیراعظم نے مالدیپ کو ضروری غذائی اشیا اور ادویات کی فراہمی کے لیے پاکستان کی آمادگی کا اعادہ کیا اور کہا کہ یہ فراہمی دونوں حکومتوں کے درمیان براہِ راست انتظامات کے ذریعے ممکن بنائی جائے گی۔ انہوں نے مالدیپ کے طلبہ کے لیے ہر سال مزید 20 انڈرگریجویٹ اسکالرشپس دینے کا اعلان بھی کیا۔
مالدیپ کے صدر کے ’’پانچ ملین درخت لگانے کے اقدام‘‘ کے تحت وزیراعظم نے اعلان کیا کہ پاکستان اگلے 12 ماہ میں ایک لاکھ زیتون کے پودے اور مختلف پودوں کے ایک لاکھ بیج فراہم کرے گا۔ پاکستانی ماہرین مالدیپ میں پودوں کی نرسریاں قائم کرنے میں مدد دیں گے، جس سے تین سال میں مجموعی طور پر 10 لاکھ پودے تیار کرنے میں تعاون ممکن ہوگا۔
علاقائی اور عالمی امور پر گفتگو کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے امن، مذاکرات، خودمختاری کے احترام اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے فلسطین کے معاملے پر مالدیپ کے اصولی مؤقف کو سراہا، جبکہ جموں و کشمیر تنازع، سندھ طاس معاہدے اور علاقائی سلامتی پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔
دونوں رہنماؤں نے مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے 20 مفاہمتی یادداشتوں کے تبادلے کا مشاہدہ کیا۔ ان میں صحت، تعلیم، تکنیکی تربیت، سیاحت، شہری ہوا بازی، زراعت، ماہی گیری، دفاع، بحری سلامتی، قانون نافذ کرنے والے ادارے، سول سروس، سماجی تحفظ، ثقافت اور نوجوانوں سمیت دیگر شعبے شامل ہیں۔
مشترکہ میڈیا گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے ملاقات کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کیا اور معاہدوں کے بروقت عمل درآمد پر زور دیا تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو عملی فوائد حاصل ہوں۔
ایک خصوصی تقریب میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد نے مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کو سیاست اور بین الاقوامی تعلقات کے شعبے میں اعزازی پی ایچ ڈی کی ڈگری دی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مالدیپ کے صدر اور ان کے وفد کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا۔ مالدیپ کے صدر کا یہ سرکاری دورہ گزشتہ 11 سال میں کسی مالدیپی صدر کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے 60 سال مکمل ہونے کے موقع پر ہو رہا ہے۔

