میکرون نے فرانس میں مسلم مہاجرین کے فسادات کے الزامات مسترد کر دیے

macron d 1 1


پیرس: فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے ملک میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کو مسلم مہاجرین یا اسلام پسندوں سے منسوب کرنے والے بیرونی رہنماؤں کے دعووں کو مسترد کر دیا ہے اور انہیں ”ناقابل قبول اور احمقانہ“ قرار دیا ہے۔
دوہا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے میکرون نے کہا کہ فرانس میں ہونے والے واقعات میں بیرونی مداخلت کا کوئی واضح ثبوت موجود نہیں، البتہ اس کے بعد معلومات کی بیرونی سطح پر ہیرا پھیری کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ فرانس پر ”مہاجرین اور اسلام پسندوں کے ہجوم کے قبضے“ کا دعویٰ بالکل غلط ہے۔
میکرون نے کہا کہ بعض غیر ملکی رہنما فرانس کے مسائل کو اپنی انتخابی مہم کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور بعض اوقات بغیر تصدیق کے مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی جعلی تصاویر اور ویڈیوز دہرا رہے ہیں۔ ان کے تبصروں کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر بالواسطہ تنقید سمجھا جا رہا ہے۔
ٹرمپ نے فرانس میں بدامنی کا ذمہ دار مسلم مہاجرین کو ٹھہراتے ہوئے یورپ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ سرحدیں سخت کرے اور مجرموں کو ملک بدر کرے۔ نیتن یاہو نے بھی فرانس پر ”انتہا پسند اسلام کے حملے“ کا الزام لگایا تھا، جبکہ فرانسیسی احتجاج بنیادی طور پر مہنگائی، تعلیمی حالات اور معاشی مسائل پر ہوئے تھے۔
فرانسیسی حکام نے کہا ہے کہ مظاہروں کے دوران تشدد، توڑ پھوڑ اور لٹ مار کے واقعات ہوئے، تاہم اب تک یہ ثابت نہیں ہوا کہ مسلم مہاجرین تشدد کی بنیادی وجہ تھے۔ میکرون نے حکام سے انتہائی بازو کے فسادیوں کے خلاف سخت اقدام کا عہد بھی کیا ہے۔

متعلقہ پوسٹ