اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات سے قبل ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور فوجی قیادت کے درمیان اختلافات کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ مجوزہ کارروائی سے ایران کے ساتھ فوجی تصادم کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جبکہ اپوزیشن نے نیتن یاہو پر انتخابی فائدے کے لیے خوف پھیلانے کا الزام عائد کیا ہے۔
اسرائیلی ٹی وی چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق، نیتن یاہو اور فوج کے سربراہ ایال ضمیر کے درمیان ایک مجوزہ فوجی کارروائی پر اختلافات پیدا ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں اسرائیل کے انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ فوجی تصادم چھڑنے کا خدشہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ایال ضمیر نے ہدایت پر عمل درآمد سے قبل اس معاملے پر تفصیلی بحث اور سیاسی قیادت سے تحریری قانونی منظوری طلب کی۔ تاہم، نشریاتی ادارے نے مجوزہ فوجی کارروائی کی نوعیت ظاہر نہیں کی۔
فوجی حلقوں کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا کہ سیاسی قیادت 27 اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل انتخابی فائدہ حاصل کرنے کے لیے ایران کے ساتھ کشیدگی کو استعمال کر سکتی ہے۔
ایک سیکوریٹی عہدیدار نے خبردار کیا کہ یہ کارروائی تیزی سے ایران کے ساتھ تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے اور انتہائی حساس وقت میں کسی غلط اندازے یا فیصلے کے باعث حالات بگڑ سکتے ہیں۔
تاہم، نیتن یاہو نے اتوار کو اسرائیلی چینل 14 کو انٹرویو دیتے ہوئے ایال ضمیر کے ساتھ کسی بھی قسم کے اختلاف کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ”کوئی تصادم نہیں ہے۔“
سیاسی عہدیداروں نے بھی ان الزامات کو مسترد کیا کہ ایران کے معاملے کو انتخابی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
اسی انٹرویو میں نیتن یاہو نے کہا کہ انہوں نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد اور فوج کو ایران کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے کام کرنے کی ہدایت دی ہے۔ تاہم، چینل 12 اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا کہ خفیہ رکھی گئی مجوزہ فوجی کارروائی کا ان ہدایات سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔
نیتن یاہو نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران نے اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کر دیا ہے اور انتخابات کو اسرائیل کی بقا کا معاملہ قرار دیا۔
اس سے قبل نیتن یاہو نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کردہ ایک تصویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی، جس میں تل ابیب کے اوپر جوہری دھماکے کا منظر دکھایا گیا تھا۔ انہوں نے ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے خدشے سے متعلق بھی انتباہ جاری کیا۔
اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں گادی آئزن کوٹ اور یائیر گولان نے نیتن یاہو پر الزام عائد کیا کہ وہ انتخابات سے قبل خوف اور افراتفری پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

