امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نوبیل امن انعام نہ ملنے پر ناروے کے خلاف شدید زبان استعمال کرتے ہوئے اسے نازیبا اصطلاح قرار دیا اور کہا کہ ناروے سے آنے والے تارکین وطن کا امریکہ میں خیر مقدم نہیں کیا جائے گا۔
مشی گن کے شہر پورٹ ہیورون میں وسط مدتی انتخابات سے قبل منعقدہ سیاسی جلسے میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ دیگر ممالک سے آنے والے تارکین وطن کا خیر مقدم کریں گے، لیکن ناروے سے نہیں، کیونکہ نوبیل کمیٹی نے انہیں امن کا نوبیل انعام نہیں دیا۔ انہوں نے ناروے کو ’گندا ملک‘ بھی قرار دیا۔
ٹرمپ نے فرانس میں حالیہ بدامنی کو امیگریشن سے منسوب کرتے ہوئے کہا کہ نوبیل انعام نہ ملنے کی وجہ سے انہیں ناروے کے کسی فرد کی ضرورت نہیں۔ تاہم کوئی سرکاری اشارہ نہیں ملا کہ ٹرمپ انتظامیہ ناروے سے آنے والے تارکین وطن کے خلاف کوئی نئی پالیسی اپنا رہی ہے۔
نارویجن نوبیل کمیٹی نے واضح کیا کہ وہ نارویجن حکومت سے مکمل طور پر آزاد ہے اور انعام کے فیصلے میں حکومت کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارٹ آئیڈے نے بھی کہا کہ نوبیل کمیٹی آزاد ہے اور یہ بات ٹرمپ کو معلوم ہے۔
ناروے کی وزارت خارجہ اور نوبیل کمیٹی نے ٹرمپ کے نازیبا تبصرے پر براہ راست کوئی ردعمل نہیں دیا، جبکہ اس سے قبل نارویجن وزیراعظم جوناس گہر اسٹورے نے کہا تھا کہ نوبیل کمیٹی میں حکومت نہ مداخلت کرتی ہے اور نہ کوئی دباؤ ڈالتی ہے۔

