سر سید احمد خان کا دورہ لاہور جب وہ ہزاروں لوگوں سے ملے

399473 299546436


سر سید احمد خان تیس جنوری 1884 کو چھ روزہ دورے پر لاہور پہنچے۔ یہ ان کا دوسرا دورہ تھا اور پہلے سے کافی مختلف۔ 

اکتوبر کو ماہِ سر سید کے طور پر منایا جاتا ہے۔ 1817 میں پیدا ہونے والے سر سید کے تصورات کے اثرات سے انکار ممکن نہیں۔ انہوں نے زندگی میں پنجاب کے کئی دورے کیے۔ 1884 کا دورہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ سرسید کو لاہور بھر کے مختلف المذاہب گروہوں سے ملنے اور بات چیت کا موقع ملا۔

اس دورے میں سرسید کی علمی و ادبی سرگرمیوں کو شہر بھر کے انگریزی، اردو اور ہندی اخبارات میں نقل کیا گیا۔ سرسید نے لاہور کے تاریخی مقامات کی سیر کی، خطبات دیے اور تصاویر بنوائیں۔ آج کی تحریر اسی دورے کو یاد کرتی ہے۔

لاہور آمد سر سید کے سفرِ پنجاب کا لازمی حصہ تھی۔ اس چند روزہ قیام میں سر سید کی ملاقات بلا مبالغہ ہزاروں لوگوں سے ہوئی۔ ریلوے سٹیشن لنڈا بازار تک کھنچا کھنیچ بھرا تھا۔ انار کلی کے راستے انہیں اپنی قیام گاہ تک پہنچتے ہوئے کئی گھنٹے لگے۔

لاہور میں عید محسوس ہوتی تھی۔ اپنے قیام کے دوران وہ مسلمانوں کے درجنوں وفود کے علاوہ شہر کے معززین، ہندوؤں، سکھوں اور ان کی مختلف سبھاؤں سے ملے۔ ان میں آریہ سماج کے وفود اور سناتن دھرم سبھا سے ہونے والی ملاقات کی رودادوں کا مختصر احوال ملتا ہے۔

تفصیلات اس دور کے مختلف اخباروں مثلاً انجمن پنجاب، پنجابی اخبار اور ٹریبیون وغیرہ میں شائع ہوئیں۔ سرسید سے ملنے کا اشتیاق یہاں تک بڑھا کہ پردہ نشین گھریلو بیبیاں بھی بہ زبان مولانا محمد حسین آزاد سرسید کی خدمت میں سپاس گزار ہوئیں۔ عورتوں کا یہ تہنیت نامہ مقالات آزاد میں موجود ہے۔

لاہور میں سر سید کا قیام مہاراجہ کپورتھلہ کی کوٹھی میں ہوا۔ دو دن وہ اپنے مہربان دوست ڈاکٹر رحیم خان صاحب کی حویلی (موجودہ ویٹرنری یونیورسٹی) میں بھی رہے۔ عام پڑھے لکھے مسلمانوں کے علاوہ سر سید لاہور کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے سربراہوں میں بھی بےحد مقبول تھے۔ ان میں پنجاب یونیورسٹی کے رجسٹرار مسٹر پارکر، گورنمنٹ کالج لاہور کے پرنسپل ڈاکٹر جی ڈبلیو لائٹنر اور انجمن اسلامیہ لاہور کے آنریری سیکرٹری کمشنر نواب عبد المجید خان وغیرہ شامل تھے۔ ڈاکٹر پارکر اور ڈاکٹر لائٹنر کے ساتھ ان کی پہلے ہی خط و کتابت ہو چکی تھی۔ لائٹنر کو سر سید نے 1880 میں اس وقت خط لکھا جب سر سید علی گڑھ کالج کے الحاق کے لیے کوشاں تھے۔

بعد ازاں وہ پنجاب یونیورسٹی کالج کے قیام ہی کے مخالف ہو گئے اور گزٹ میں مسلسل مضامین لکھتے رہے۔ قرائن بتاتے ہیں کہ ان کی لائٹنر سے صلح صفائی ہو گئی البتہ لائٹنر کے بیشتر خیالات سے وہ متفق نہیں ہو سکے۔ مثال کے طور پر جب لائٹنر نے ہندوؤں کی فرمائش اور پر زور اصرار پر ووکنگ، برطانیہ میں پاٹھ شالا اور مسجد تعمیر کی تاکہ تعلیمی دوروں پر جانے والے ہندو اور مسلمان اپنے مذہبی عقائد بہ آسانی انجام دیتے ہوئے وہاں رہ بھی سکیں تو سرسید نے اس خیال کی نفی کی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انجمن پنجاب کے اخبار نے اس بات کو یوں نقل کیا ہے :’میں ڈاکٹر صاحب موصوف کی رائے سے متفق نہیں ہوں اگر ہماری قوم کے بچے ولایت میں جا کر ایسی تعلیم پائیں کہ ان کو اس ملک کی سوسائٹی میں شامل ہونے اور وہاں کے رسم و رواج سے آگاہ ہونے اور اپنے ملک کے تنگ و تاریخ خیالات سے نجات ملنے کا موقع حاصل نہ ہو بلکہ کوٹھری میں بند رہیں اور دنیا کی خبر ان کو نہ ہو تو ایسی تعلیم سے ان طالب علموں کا سمندر میں ڈوب جانا ہزار درجہ بہتر ہے۔‘

سرسید کا یہ خیال معاشرے کی جدید سائنس سے حیرت انگیز حد تک مطابقت رکھتا ہے۔

چار فروری 1884 کو لاہور سے نکلنے سے دو دن پہلے، دو فروری کی شام مسٹر پارکر نے سید صاحب کے لیے پنجاب یونیورسٹی کے معروف اور تاریخی سینٹ ہال میں ایک ’ایوننگ پارٹی‘ کا اہتمام کیا۔ اس مجلس کی روداد ’سر سید احمد خان کا سفرنامہ پنجاب‘ از مولوی سید اقبال علی میں درج ہے۔ اس مجلس میں مسٹر پارکر، مولوی محمد حسین آزاد، مرزا عبدالغنی صاحب ارشد، مسٹر سائم صاحب بہادر ایم اے پرنسپل گورنمنٹ کالج لاہور سمیت شہر بھر کے رئیس، تعلیم یافتہ اشخاص اور یورپین صاحبان موجود تھے۔ پارٹی میں شریک افراد کی کم سے کم تعداد سو تھی۔ ظاہر ہے اس عہد میں گورنمنٹ کالج لاہور کے کل وقتی پرنسپل مشہور اورینٹلسٹ ڈاکٹر جی ڈبلیو لائٹنر تھے۔ البتہ ہندوستانی معاشرت و تمدن میں لائٹنر کی بے پناہ دلچسپی انہیں پے در پے سفر کی طرف آمادہ کرتی۔ امید کی جا سکتی ہے سائم نے ڈاکٹر لائٹنر کی غیر موجودگی میں جز وقتی پرنسپل کا عہدہ سنبھالا ہوگا۔

سر سید کے اعزاز میں دیے جانے والے اس عشائیے کے لیے سینٹ ہال اور اس کے آس پاس کے اطراف کو خوب سجایا گیا۔ ان دنوں سینیٹ ہال کے مغرب میں ہندوؤں کے چند بنگلے اور گول باغ واقع تھا۔ شمال میں آئس کریم فیکٹری اور چنگڑوں کا محلہ واقع تھا۔ جسے ڈاکٹر لائٹنر اپنی تجربہ گاہ قرار دیتے تھے۔ سرسید کی آمد پر یہ سارا علاقہ روشنی میں نہا گیا۔ سینیٹ ہال کے برآمدے میں بینڈ باجا بج رہا تھا۔ چائے کافی، میوہ جات، ہندوستانی اور انگریزی مٹھائی اور بسکٹ و ٹوسٹ سب کچھ مہیا تھا۔ اس مجلس میں مولوی محمد حسین آزاد نے اپنا معروف ترجیح بند پڑھا اور حاضرین سے داد سمیٹی۔

سر سید نے ان کی شستگیٔ زبان کی تعریف کرتے ہوئے کہا، ’کیوں نہ ہو ہمارے ہی دلی کے ہیں۔‘ مسٹر پارکر نے کہا کہ نہیں ’مولانا پنجاب کے ہیں۔‘ سر سید نے جواباً کہا، ’پنجاب کی خوش قسمتی ہے جو اس نے انہیں چھین لیا ہے مگر ہیں تو ہماری دلی ہی کے۔‘

اسی مجلس میں مرزا عبدالغنی ارشد نے سرسید کے اعزاز میں جدید انداز کے اشعار پڑھے۔ سر سید نے کھڑے ہو کر یہ اشعار سنے اور ہر ہر شعر پر عاجزی سے شرمندہ ہوتے رہے۔

اگرچہ ارشد دہلوی کو پوری مسدس پڑھنی نصیب نہیں ہوئی لیکن بعد ازاں مولوی سید اقبال علی نے تمام تر پندرہ بند اپنے سفر نامے میں درج کر دیے۔ اس ترجیع بند مسدس کا ٹیپ کا مصرع دلچسپ ہے :سید احمد خاں بہادر ویلکم

سینٹ ہال کی اس تقریب کی روداد کو پنجابی اخبار اور انجمن پنجاب کے پرچے میں مختصراً نقل کیا گیا ہے۔ سر سید کی سواری کی آمد و رخصت پر انہیں بینڈ باجے کی سلامی دی گئی۔ ان کے لیے سرخ قالین کا فرش بچھایا گیا۔ اس مجلس کی عکس کشی کے لیے لاہور کے معروف مصور، میسرز جمس کریڈک کو بلایا گیا۔

لاہور کے انگریزی اور اردو اخباروں کے الفاظ میں سر سید کی گفتگو کے دوران تمام معززینِ شہر بار بار ’چیرز‘ کرتے رہے۔ لاہور کے تاریخی دورے میں سرسید گورنمنٹ کالج لاہور اور لاہور میڈیکل سکول بھی گئے۔ انہیں لاکھوں روپے کی مالیت میں تیار ہونے والے مرکزی گرجا گھر کی جگہ بھی دکھائی گئی۔

ان کی واپسی کی خبر کسی کو نہیں دی گئی تاکہ ریلوے سٹیشن پر بھیڑ سے بچا جا سکے۔ سرسید کے علمی فضل کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ٹرین چلنے سے دو منٹ پہلے لاہور میں موجود جید عالم مولانا فیض الحسن ان سے ملنے سٹیشن آئے۔ مولانا صرف ٹرین کی کھڑکی سے ہاتھ ملا سکے اور بہ وجوہ ملاقات نہ ہو پانے پر کف افسوس ملتے رہ گئے۔

ڈاکٹر ارسلان راٹھور، تاریخی محقق، شاعر اور ادیب ہیں۔ وہ جی سی یونیورسٹی لاہور کے شعبہ اردو سے منسلک ہیں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ