جن سنوائی میں ایس آئی آر پر اٹھے سوال، چار پولنگ بوتھ پر ہر تین میں سے ایک ووٹر کا نام غلط طریقے سے ہٹا

Screenshot 2026 10 28 at 11.27.01 AM e1793253437114


راہل گاندھی، دیپانکر بھٹاچاریہ، دانش علی، پرشانت بھوشن، این سائی بالاجی، یوگیندر یادو اور دیگر 27 اکتوبر 2026کو مشرقی دہلی کے ترلوک پوری میں ایس آئی آر پر جن شنوائی میں شامل ہوئے۔ تصویر: ایکس آئیسا

مشرقی دہلی کے ترلوک پوری کے چار پولنگ بوتھ پر گھر گھر جا کر کیے گئے آڈٹ میں پایا گیا کہ ایس آئی آر کا عمل شروع ہونے سے پہلے بھی ووٹر لسٹ سے نام ہٹائے جانے کے واقعات میں زبردست اضافہ ہوا تھا۔ جنوری سے مئی 2026 تک کی ماہانہ فہرستوں میں 5,816 ووٹروں کے نام ہٹائے گئے، جبکہ پورے 2025 میں یہ تعداد 1,385 تھی۔

نئی دہلی:مشرقی دہلی کے ترلوک پوری میں منگل (27اکتوبر) کوایس آئی آرکے سلسلے میں منعقدجن سنوائی میں سینکڑوں ووٹروں اور اپوزیشن کے سینئر رہنماؤں نے حصہ لیا۔ اس کا انعقاد جن سروکار، مزدور کسان شکتی سنگٹھن (ایم کے ایس ایس)، نیشنل فیڈریشن آف انڈیپنڈنٹ ویمن(این ایف آئی ڈبلیو)اور ووٹر ادھیکار منچ نے کیا تھا۔

پریس ریلیز کے مطابق، کئی لوگوں نے بتایا کہ فارم جمع کرنے کے باوجود ووٹر لسٹ سے ان کے نام ہٹا دیے گئے۔ وہیں، ترلوک پوری کے چار پولنگ بوتھ پر گھر گھر جا کر کیے گئے آڈٹ میں پایا گیا کہ جانچ کے دائرے میں شامل نام ہٹائے جانے کے ہر تین معاملے میں سے ایک معاملہ غلط تھا۔

اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں؟

جنوری 2025 کی ووٹر لسٹ میں ترلوک پوری اسمبلی حلقہ میں 1,93,917 ووٹر تھے۔ منتظمین کے آڈٹ کے مطابق، ان میں سے صرف 42 فیصد، یعنی 81,687 ووٹروں کے نام بغیر کسی نوٹس کے مسودہ ووٹر لسٹ میں شامل کیے گئے۔ مزید 40,277 ووٹروں کے نام مسودہ فہرست میں موجود ہیں، لیکن انہیں نوٹس بھیجا گیا ہے۔

تقریباً 37 فیصد، یعنی 70,884 ووٹروں کے نام یا تو غیر حاضر، منتقل شدہ، فوت شدہ، ڈپلیکیٹ اور دیگر زمرے کی فہرست میں ڈال دیے گئے ہیں (61,998)، یا ایس آئی آر کا عمل شروع ہونے سے پہلے ہی ہٹا دیے گئے تھے (8,886)۔

اے ایس ڈی ڈی او زمرے کے 61,998 معاملوں میں سے 48 فیصد ووٹروں کو ’غیر حاضر‘یا ’پتہ نہیں چل سکا‘ کے طور پر درج کیا گیا ہے، جبکہ 44 فیصد کو منتقل شدہ اور تقریباً 6 فیصد کو فوت شدہ بتایا گیا ہے۔ نوٹس پانے والے ووٹروں میں سے 40 فیصد معاملے میں 2002 کی ووٹر لسٹ سے تعلق ثابت نہ کر پانے کا ذکر ہے، جبکہ 39 فیصد معاملے میں نام کا ملان نہ ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ شنوائی کے دوران نام میں فرق سے متعلق مسئلے کو درست کیا جا سکتا ہے۔

آڈٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ ایس آئی آر کا عمل شروع ہونے سے پہلے ووٹر لسٹ سے نام ہٹائے جانے کے واقعات میں بھی زبردست اضافہ ہوا تھا۔ جنوری سے مئی 2026تک کی ماہانہ فہرستوں میں 5,816 ووٹروں کے نام ہٹائے گئے، جبکہ پورے 2025میں یہ تعداد 1,385تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ 2026 کے ان پانچ مہینوں میں اوسطاً ہر ماہ تقریباً 1,160 نام ہٹائے گئے، جبکہ 2025میں یہ اوسط تقریباً 120 نام ماہانہ تھی۔

منتظمین نے پایا کہ 80 سال سے زیادہ عمر کے 53فیصد ووٹروں کے نام ہٹا دیے گئے ہیں یا انہیں ہٹانے کے لیے نشان زد کیا گیا ہے، جبکہ 18 سے 29سال کی عمر کے ووٹروں میں یہ شرح 28 فیصد ہے۔ پولنگ بوتھ کے لحاظ سے یہ تناسب 12 فیصد سے 74 فیصد تک الگ الگ ہے۔

انہوں نے یہ بھی پایا کہ 2025کی ووٹر لسٹ میں شامل 1,047ووٹروں کے نام ایس آئی آر سے متعلق کسی بھی فہرست میں موجود نہیں ہیں۔ نہ تو ان کے نام مسودہ فہرست میں ہیں، نہ اے ایس ڈی ڈی فہرست میں اور نہ ہی انہیں کوئی نوٹس دیا گیا ہے۔

عوامی آڈٹ

قابل ذکر ہے کہ23سے 26اکتوبر تک چار دنوں کے دوران 31رضاکاروں نے 2,082بار گھروں کا دورہ کیا۔ یہ سروے 2025کے نمبرنگ سسٹم مطابق پولنگ بوتھ نمبر 42، 43، 79 اور 80 کے تحت آنے والے 700 خاندانوں میں کیا گیا۔ اس میں اندرا کیمپ اور بلاک 34 شامل تھے۔

ان پولنگ بوتھ کی ووٹر لسٹ میں درج کل 5,173ووٹروں میں سے تقریباً 40.5فیصد کے نام اے ایس ڈی ڈی او فہرست میں ہٹائے جانے کے لیے نشان زد تھے یا پہلے ہی ہٹائے جا چکے تھے۔

رضاکاروں نے فہرست سے ہٹائے گئے 1,236 ووٹروں کی صورتحال کی تصدیق کی۔ ان میں سے 416، یعنی 33.7 فیصد ووٹروں کے نام غلط طریقے سے ہٹائے گئے تھے۔

’غیر حاضر‘قرار دیے گئے ووٹروں میں سے 55فیصد، یعنی 701میں سے 384لوگ اپنے درج شدہ پتے پر ہی رہتے ہوئے پائے گئے۔ وہیں، ’منتقل ہو چکے ہیں‘قرار دیے گئے 345لوگوں میں سے صرف  20 (6فیصد)کے معاملے غلط پائے گئے۔ فوت شدہ قرار دیے گئے 102ووٹروں میں سے 3 زندہ پائے گئے۔

آڈٹ میں سامنے آیا کہ غلط طریقے سے ہٹائے گئے ووٹروں میں سے 118نے اپنے فارم بھر دیے تھے، جبکہ 184کو فارم ملا ہی نہیں تھا۔ وہیں، 65معاملوں میں بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او)فارم لینے کے لیے واپس نہیں آیا تھا۔

غلط طریقے سے ہٹائے گئے 416 ووٹروں میں سے اب تک صرف 87 نے اپنا نام دوبارہ ووٹر لسٹ میں شامل کرانے کے لیے فارم-6 بھرا ہے۔

اندرا کیمپ میں نام ہٹائے جانے کی غلطی کی شرح 53 فیصد پائی گئی، جبکہ بلاک 34 میں یہ 14 فیصد تھی۔ نوٹس پانے والے اور جن کے گھروں کا دورہ کیا گیا، ایسے 763ووٹروں میں سے 66 نے بتایا کہ انہیں کوئی نوٹس ملا ہی نہیں تھا۔

منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ ایک ’ٹارگیٹڈ آڈٹ‘(چنندہ جانچ)تھی، نہ کہ کوئی رینڈم سیمپل۔ اس کے علاوہ، فہرست سے ہٹائے گئے 780 ووٹروں تک ابھی پہنچنا باقی ہے، اس لیے 416 کی تعداد محض ایک کم از کم تعداد ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 81 معاملوں میں کوئی واضح نتیجہ نہیں نکل سکا۔

متاثرہ ووٹروں نے سنائی آپ بیتی

پریس ریلیز کے مطابق، عوامی سماعت یا جن شنوائی میں شریک کئی ایسے لوگوں نے اپنی صورتحال بیان کی، جن کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے گئے تھے۔

مثال کے طور پر، 67 سالہ وجیندر گزشتہ 50 برسوں سے اس علاقے میں رہ رہے ہیں۔ گنتی کا فارم جمع کرنے کے باوجود انہیں فوت شدہ قرار دے دیا گیا۔

ایک ایسے گھر میں، جہاں 14 لوگ رہتے ہیں، نو لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کر دیے گئے، جبکہ سب لوگوں نے اپنے فارم جمع کیے تھے۔

اسی طرح56 سالہ بیوہ گندا دیوی نے بھی گنتی کا فارم بھرا تھا، لیکن انہیں غیر حاضر اور پتہ نہ چل سکنے کے زمرے میں درج کر دیا گیا۔

اسی طرح، 28 سالہ حاملہ سشیلا کا نام ووٹر لسٹ سے خارج کر دیا گیا، جبکہ ان کے شوہر کا نام فہرست میں برقرار ہے۔

متھلیش (48 سالہ)نے بتایا کہ انہیں اپنے شوہر اور بیٹی کے لیے فارم ملے تھے، لیکن ان کے لیے کوئی فارم نہیں آیا۔ اب انہیں غیر حاضر درج کر دیا گیا ہے۔

ایک اور ووٹر جاوید نے بتایا کہ ان کے خاندان کے پانچ لوگوں میں سے چار کے نام خارج کر دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ بار بار چکر لگانے کے باوجود بوتھ لیول آفیسر نے ان کی شکایت کا کوئی جواب نہیں دیا۔

بیس سالہ پارول کو بھی غیر حاضر درج کر دیا گیا، جبکہ ان کے والدین اور خاندان کے باقی لوگوں کے نام مسودہ فہرست میں شامل ہیں۔

’جب تک وہ استعفیٰ نہیں دیں گے، ہم نہیں رکیں گے‘

لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی اس جن شنوائی میں شریک ہوئے اور انہوں نے ان ووٹروں سے بات چیت کی، جن کے نام غلط طریقے سے ہٹا دیے گئے تھے۔

انہوں نے کہا، ’ایس آئی آر کے ذریعے عام شہریوں سے ان کے ووٹ کا حق چھینا جا رہا ہے اور پوری اپوزیشن اس کے خلاف متحد ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا، ’یہ سب ایک ایسا نیا ہندوستان بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے، جہاں صرف چنندہ ارب پتیوں کو ووٹ دینے کا حق ہو اور غریب لوگوں کو بڑے پیمانے پر حق رائے دہی سے محروم کر دیا جائے۔ اس عوامی آڈٹ نے دکھایا ہے کہ صرف چار پولنگ بوتھ پر ہی 416ووٹروں کے نام غلط طریقے سے خارج کیے گئے ہیں۔ لیکن اب ملک بھر کے لوگ اس دکھاوے کو سمجھ  پارہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا، ’جب بھی ہم الیکشن کمیشن سے جوابدہی کا مطالبہ کرتے ہیں، موجودہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار چھپ جاتے ہیں۔ لیکن جب تک وہ استعفیٰ نہیں دیتے، ہم رکنے والے نہیں ہیں۔ آج ایس آئی آر کے خلاف کھڑا ہر شخص ہندوستان میں  جمہوریت کو بچانے کی لڑائی لڑ رہا ہے۔‘

اس شنوائی میں کانگریس کے رکن پارلیامنٹ ششی کانت سینتھل، راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی)کے راجیہ سبھا رکن سنجے یادو، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ-لیننسٹ)لبریشن کے جنرل سکریٹری دیپانکر بھٹاچاریہ، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی)کے جنرل سکریٹری ڈی راجہ، سی پی آئی کی قومی سکریٹری اینی راجا، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی طلبہ یونین (جے این یو ایس یو)کے جوائنٹ سکریٹری دانش علی، سیاسی کارکن یوگیندر یادو اور سینئر وکیل پرشانت بھوشن بھی موجود تھے۔

سنجے یادو نے کہا کہ بہار میں بھی لوگوں کے نام غلط طریقے سے ووٹر لسٹ سے خارج کیے گئے تھے، جس کے باعث وہ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکے۔

ڈی راجہ نے گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ وہیں، اینی راجا نے ایس آئی آر کو دھوکہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ لوگ اپنے ووٹ کے حق کا مطالبہ کر رہے ہیں، وہ الیکشن کمیشن سے کوئی ’مہربانی‘نہیں مانگ رہے ہیں۔

دیپانکر بھٹاچاریہ نے الیکشن کمیشن میں تقرریوں کو کنٹرول کرنے والے 2023 کے قانون پر تنقید کی اور اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بہار میں اسی طرح کے ایک عوامی آڈٹ میں 18 سے 20 فیصد تک غلطیاں سامنے آئی تھیں، جن میں غلط طریقے سے نام خارج کرنا اور نئے نام شامل کرنا، دونوں شامل تھے۔ انہوں نے دلیل دی کہ کسی بھی انتخاب سے پہلے پولنگ بوتھ کی سطح پر عوامی آڈٹ لازمی ہونا چاہیے۔

شنوائی کے دوران یوگیندر یادو نے کہا کہ ایس آئی آر نے ووٹر رجسٹریشن کے پورے عمل کا طریقہ بدل دیا ہے۔ اب پہلے نام خارج کیے جاتے ہیں اور بعد میں سوال پوچھے جاتے ہیں۔

پرشانت بھوشن نے اس بات پر اعتراض کیا کہ جن ووٹروں کے نام غلط طریقے سے خارج کیے گئے ہیں، انہیں فارم-6 بھرتے وقت ایسے حلف نامے پر دستخط کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے، جسے انہوں نے جھوٹا قرار دیا۔ اس اعلامیے میں انہیں یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ وہ پہلی بار ووٹر بن رہے ہیں۔

دانش علی نے کہا کہ پُرامن احتجاج ایک بنیادی حق ہے اور مطالبات پورے ہونے تک مظاہرے جاری رہیں گے۔

فارم-6

شنوائی کی جگہ پر ایک امدادی کیمپ بھی لگایا گیا تھا۔ اس کیمپ میں 280خاندانوں کو معاون دستاویزوں کے ساتھ فارم-6 بھرنے میں مدد دی گئی۔ اس کے ساتھ ایک اعلانیہ بھی جمع کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ ان کے نام غلط طریقے سے خارج کیے گئے ہیں اور وہ پہلی بار ووٹر نہیں بن رہے ہیں۔

پریس ریلیز کے مطابق، 500 سے زیادہ فارم بھرے گئے۔

منتظمین نے بتایا کہ بوتھ لیول آفیسروں(بی ایل او)، الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (ای آر او)، ضلع مجسٹریٹ اور الیکشن کمیشن کے افسران کو عوامی سماعت میں مدعو کیا گیا تھا۔ ای آر او موہن کمار اور مشرقی دہلی کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (اے ڈی ایم)عوامی سماعت میں پہنچے اور انہوں نے ووٹروں کی مدد کی۔

اہم مطالبات

اس شنوائی کا اختتام درج ذیل مطالبات کے ساتھ ہوا؛


ایس آئی آر کا عمل مکمل طور پر واپس لیا جائے اور ایس آئی آر سے پہلے کی ووٹر لسٹیں بحال کی جائیں۔ ایس آئی آر کے عمل کے تحت تیار کی گئی ووٹر لسٹوں کی بنیاد پر کوئی انتخاب نہ کرایا جائے۔

ووٹر لسٹ میں مستقبل میں ہونے والی کسی بھی ترمیم کو عوامی اور اجتماعی تصدیق کے عمل سے مشروط کیا جائے۔ اس کے لیے شہری اور دیہی، دونوں علاقوں میں عوامی سماعت جیسا طریقہ اپنایا جائے۔

گیانیش کمار استعفیٰ دیں یا انہیں مواخذے کی کارروائی کے ذریعے عہدے سے ہٹایا جائے اور جوابدہی طے کی جائے۔

ایس آئی آر سے متعلق تمام اعداد و شمار، دستاویز اور احکامات عوامی طور پر دستیاب کرائے جائیں۔

الیکشن کمیشن کے سرکاری پورٹل ای سی آئی نیٹ کے کوڈ اور الگورتھم کی عوامی جانچ کرائی جائے۔


منتظمین نے کہا، ’ووٹر لسٹ عوام کی ہے اور ہر شہری کو اس میں اپنا نام درج کرانے، فہرست سے نام خارج کیے جانے پر سوال اٹھانے اور اپنی بات سنے جانے کا حق حاصل ہے۔‘



Source link

متعلقہ پوسٹ