
(ویب ڈیسک) اسرائیل کی فوج نے کہا ہے کہ غزہ حملے میں ایک درجن اسرائیلیوں کو یرغمال بنانے والے حماس کے کمانڈر کو احاب جمیل ابو تقیہ کو ہلاک کر دیا گیا۔
آج جمعہ کے روز اسرائیل کی فوج نے اعلان کیا کہ حماس کےجس کمانڈر جس نے جنگ کے دوران غزہ میں متعدد یرغمالیوں کو قید میں رکھنے میں حصہ لیا تھا، وہ کل جمعرات کو غزہ پٹی کے مرکز میں ایک حملے میں مارا گیا۔
کل نصیرات میں ہونے والے حملے میں احاب جمیل ابو تقیہ مارا گیا، حماس کے اس لیدر کے بارے میں اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ وہ غزہ جنگ کے کہ جنگ کے آغاز میں بارہ سے زیادہ اسرائیلی یرغمالیوں کو غزہ میں خفیہ ٹھکانہ پر ی قید رکھنے میں ملوث تھا۔ ان یرغمالیوں میں رایا روٹیم، ہلا روٹیم شوشانی، ایملی ہینڈ، اوہد بین امی، نوا ارگمانی، آندرے کوزلوف، شلومی زیو، الموگ میر جان، میکسم ہیرکن، ایلکس ہیف او یونوف کالون، میکسم لوجیف، او یوو شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیئے: نارتھ کوریا کی جدید ڈرون اور اے آئی ٹیکنالوجی نے تشویش کی نئی لہر دوڑا دی
اس حملے میں حماس کے ایک اور لیڈر ابراہیم گہاد محمد ابو عشیبہ بھی مارے گئے۔ ان کے متعلق IDF نے کہا کہ وہ حماس کے پلاٹون کمانڈر ک کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔
آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ حماس کے ان دونوں رہنماؤں نے حال ہی میں فوجیوں اور اسرائیلی شہریوں پر حملوں کو آگے بڑھایا تھا اور حماس کی صلاحیتوں کو بحال کرنے کے لیے کام کیا تھا۔ اسرائیلی فوج آج کل غزہ میں حماس کے جن کارکنوں پر حملے کرتی ہے ان کے متعلق تسلسل کے ساتھ یہ ہی بتایا جاتا ہے کہ وہ خود جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں ملوث تھے یا سات اکتوبر کے حملے میں سرگرم کردار ادا کر چکے تھے۔

