امریکہ ۱۵۰ سے زائد افغانوں کو پاکستان کے راستے افغانستان بھیجنے کی تیاری میں، حقوقی گروپوں کا شدید احتجاج

afghanis 311026 d


واشنگٹن — امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ۱۵۰ سے زائد افغان تارکینِ وطن کو امریکہ سے پاکستان کے ذریعے افغانستان واپس بھیجنے کی تیاری کر رہی ہے۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق پہلی چارٹر پرواز ممکنہ طور پر ۲ نومبر کو لوزیانا سے روانہ ہو سکتی ہے، جبکہ انسانی حقوق کے گروپوں نے اس اقدام کو افغانوں کی جان اور آزادی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔
متاثرین میں ایسے افراد اور ان کے خاندان شامل ہیں جنہوں نے امریکی فوج یا امدادی اداروں کے ساتھ کام کیا، نیز کمزور پس منظر رکھنے والے پناہ گزین بھی شامل ہیں۔ وکلا اور تنظیموں کا کہنا ہے کہ طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان واپسی پر انہیں حراست، تشدد یا انتقامی کارروائی کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
امریکہ کے طالبان حکومت سے سفارتی تعلقات نہیں ہیں، اس لیے وہ افغانوں کو براہِ راست کابل نہیں بھیج سکتا۔ اسی وجہ سے انتظامیہ نے انہیں پہلے پاکستان بھیجنے اور پھر وہاں سے افغانستان منتقل کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے۔
ہیومن رائٹس فرسٹ نے کہا کہ اسے لوزیانا سے پاکستان جانے والی پرواز کی تصدیق ہو چکی ہے اور اسے افغانوں کو ’’طالبان کے حوالے کرنے‘‘ والی غیر معمولی بڑی ملک بدری قرار دیا۔ تنظیم نے یہ بھی خبردار کیا کہ امریکہ ایرانی تارکینِ وطن کو پاکستان کے راستے ایران بھیجنے کی ایک الگ پرواز پر بھی غور کر رہا ہے۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے کہا ہے کہ وہ مستقبل کی ملک بدری کی کارروائیوں، پروازوں کے شیڈول یا مسافروں کی فہرست پر تبصرہ نہیں کرتا۔ پاکستان پہلے ہی ۲۰۲۳ء سے افغان پناہ گزینوں کی بڑے پیمانے پر واپسی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے، جس کے بعد حقوقی تنظیمیں اس نئے انتظام پر مزید تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

متعلقہ پوسٹ