ایمسٹرڈیم — نیدرلینڈز کے ۶۵ سالہ پروفیسر جان روٹمینز، جو میٹاسٹیٹک پروسٹیٹ کینسر سے متاثر ہیں، اپنے علم کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رکھنے اور موت کے بعد بھی لیکچر دینے کے لیے اپنی مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیجیٹل جڑواں تیار کروا رہے ہیں۔ ڈچ سرکاری نشریاتی ادارے NOS کے مطابق یہ پہلا معلوم منصوبہ ہے جس میں کوئی ڈچ پروفیسر اپنا ایسا ’’اے آئی جڑواں‘‘ بنوا رہا ہے۔
ٹرانزیشن اسٹڈیز کے پروفیسر روٹمینز کا ڈیجیٹل ورژن ان کی کتابوں، سینکڑوں سائنسی اشاعتوں اور ریکارڈ شدہ لیکچرز پر تربیت دیا جائے گا۔ ان کی آواز، تصویر اور چہرے کے تاثرات کی ریکارڈنگ مکمل ہو چکی ہے، جبکہ پہلا آن لائن ورژن ۲۰۲۶ء کے اختتام تک دستیاب ہونے کی توقع ہے۔
منصوبہ ڈچ اسٹوڈیو دی سنتھس تیار کر رہا ہے، جس نے قبل ازیں سابق ڈچ فٹبالر روڈ گلیٹ کی ڈیجیٹل مشابہت بنائی تھی۔ بعد میں ایک ایسا ہولوگرام بھی تیار کرنے کا منصوبہ ہے جو اسٹیج پر ظاہر ہو سکے اور سامعین کو خطاب کر سکے۔
روٹمینز نے کہا کہ اے آئی جڑواں ان کی ذاتی جگہ لینے کے بجائے ان کے علم اور تحقیق کو مستقل طور پر قابلِ رسائی بنانے کا ذریعہ ہوگا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ نظام غلط معلومات یا ایسے بیانات دے سکتا ہے جن سے وہ اتفاق نہ کریں، اس لیے عوامی دستیابی سے قبل اس کی وسیع جانچ کی جائے گی۔
ردباؤڈ یونیورسٹی کی اے آئی پروفیسر آئرس وین روئیج نے اس منصوبے کو ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ لوگ ایسے ڈیجیٹل ماڈلز کو انسانی جذبات اور ذہانت سے منسوب کر سکتے ہیں۔ روٹمینز نے جواب دیا کہ وہ ممکنہ خطرات قبول کرتے ہیں، کیونکہ ان کا مقصد مستقبل میں اپنی تحقیق کو محفوظ رکھنا ہے۔

