
(24نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاہے کہ میں انتخابی میدان میں نہیں تھا ورنہ بھاری اکثریت سے جیتتے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اگر میں امیدوار ہوتا تو ہماری جماعت کو زبردست کامیابی ملتی۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی ریاست مشی گن کے سکول میں بم کی اطلاع، عمارت خالی کروا لی گئی
ٹرمپ نے اپنے بیان میں مزیدکہاکہ میں انتخابی میدان میں نہیں تھا، اگر میں امیدوار ہوتا تو ہماری جماعت کو زبردست کامیابی ملتی۔
واضح رہے کہ امریکا میں انتخابات کے لیے مختلف ریاستوں میں پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے،ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹس کا پلڑا بھاری ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق سینیٹ میں ڈیموکریٹس کو 45 نشستوں میں کامیابی حاصل ہوئی ہے جبکہ ری پبلیکین نے 36 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ 218 نشستوں والے ایوان نمائندگان میں ابتدائی نتائج کے مطابق 113 نشستوں پر ڈیموکریٹس اور 62 پر ری پبلیکنز نے کامیابی حاصل کی ہے۔
ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدواروں کو اہم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں جبکہ کئی رہنماؤں نے اپنی نشستوں کا کامیابی سے دفاع کرلیا۔
دوسری جانب امریکی ریاست الاباما، ڈیلاویئر، فلوریڈا، الینوائے، میساچوسٹس، مین، مسی سپی، نیو ہیمپاشائر، نیو میکسیکو، ٹیکساس، ساؤتھ ڈکوٹا اور وائیومنگ میں بھی پولنگ کا وقت ختم ہوگیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق ان ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹک سینیٹر مارک وارنر ریاست ورجینیا سے امریکی سینیٹ کے لیے دوبارہ منتخب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے ریپبلکن امیدوار برٹ میزوساوا کو شکست دے کر ایوانِ بالا میں اپنی چوتھی مدت حاصل کرلی۔
فلوریڈا کے 20ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے ڈیموکریٹک رہنما ڈیبی واسرمین شلٹز نے امریکی ایوانِ نمائندگان کی نشست پر دوبارہ کامیابی حاصل کرلی۔ انہوں نے اپنے ریپبلکن حریف برینٹ اینڈرسن کو شکست دے کر ایوانِ زیریں میں اپنی نشست برقرار رکھی۔
اسی طرح ریاست کینٹکی کے تیسرے کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے ڈیموکریٹک رہنما مورگن میک گاروی نے بھی امریکی ایوانِ نمائندگان کی نشست پر دوبارہ کامیابی حاصل کرلی۔
ریاست جارجیا کے 13ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے ڈیموکریٹک امیدوار جیسمین کلارک نے کامیابی حاصل کرکے ایوانِ نمائندگان کی نشست اپنے نام کرلی۔
نیکیما ولیمز جارجیا کے 5 ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے امریکی ایوانِ نمائندگان کے لیے دوبارہ منتخب ہوگئے امریکی میڈیا کے مطابق نیکیما ولیمز نے ریپبلکن حریف جان سالویسن کو شکست دی۔
ابتدائی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹ الیگزینڈرو فراسٹ فلوریڈا کے دسویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے بلا مقابلہ دوبارہ منتخب ہوگئے۔
جبکہ ڈیموکریٹ رہنما لوئس فرینکل فلوریڈا کے 23 ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے کامیاب ہوکر دوبارہ ایوانِ نمائندگان کے لیے دوبارہ منتخب ہوگئے۔
ڈیموکریٹک رہنما لوسی میک باتھ نے جارجیا کے چھٹے کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے ایوانِ نمائندگان کی نشست پر دوبارہ کامیابی حاصل کر لی ہے امریکی میڈیا کے مطابق لوسی میک باتھ نے اپنے ریپبلکن حریف کیون ای مارٹن کو شکست دے کر ایوانِ زیریں میں اپنی نشست کا کامیابی سے دفاع کیا۔
ریپبلکن رکنِ کانگریس ہال راجرز نے بھی کینٹکی کے 5 ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے امریکی ایوانِ نمائندگان کی نشست پر دوبارہ کامیابی حاصل کر لی ہے، ریپبلکن پارٹی کے امیدوار جم شوارٹزل نے فلوریڈا 19 سے ایوانِ نمائندگان کی نشست پر کامیابی حاصل کر لی ہے۔
ڈیموکریٹک سینیٹر جان اوسوف نے اپنے ریپبلکن حریف مائیک کولنز کو شکست دے کر ریاست جارجیا سے امریکی سینیٹ کے لیے دوبارہ کامیابی حاصل کر لی ہے۔
ابتدائی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹک رہنما لوئس فرینکل نے فلوریڈا 23 ایوانِ نمائندگان کی نشست پر دوبارہ کامیابی حاصل کر لی ہے امریکی میڈیا کے مطابق لوئنس فرینکل نے ریپبلکن امیدوار ڈیبورا ایڈیمی کو شکست دی ہے۔
جبکہ لوسی میک باتھ نے اپنے ریپبلکن حریف کیون ای مارٹن کو شکست دے کر جارجیا 6 سے ایوان نمائندگان کی نشست دوبارہ حاصل کرلی ہے۔
ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدواروں نے ڈیلاویئر، الینوائے، نیو جرسی، روڈ آئی لینڈ اور میساچوسٹس میں سینیٹ کی نشستوں پر نمایاں کامیابیاں حاصل کر لیں، امریکی میڈیا ڈیلاویئر سے ڈیموکریٹک سینیٹر کرس کونز نے ریپبلکن امیدوار مائیکل کاٹز کو شکست دے کر سینیٹ دوبارہ کامیابی حاصل کی جبکہ الینوائے سے ڈیموکریٹک امیدوار جولیانا اسٹریٹن نے سینیٹ کی نشست اپنے نام کر لی ہے۔
امریکی میڈیا نیو جرسی سے ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے ریپبلکن حریف جسٹن مرفی کو شکست دے کر دوبارہ سینیٹر منتخب ہونے میں کامیابی حاصل کی ہے، روڈ آئی لینڈ سے ڈیموکریٹک سینیٹر جیک ریڈ نے ریاست سے امریکی سینیٹ کے لیے اپنی نشست کا کامیابی سے دفاع کیا ہے دوسری طرف میساچوسٹس سے ڈیموکریٹک سینیٹر ایڈورڈ مارکی نے امریکی سینیٹ کے لیے دوبارہ فتح حاصل کی ہے۔
امریکا کی 36 ریاستوں سے گورنرز کے امیدواروں کے ابتدائی نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں، امریکی میڈیا کے مطابق امریکی ریاست الینوائے سے ڈیموکریٹک گورنر جے بی پرٹزکر دوبارہ الینوائے کے گورنر منتخب ہو گئے ہیں۔
میساچوسٹس سے ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے اپنی نشست برقرار رکھتے ہوئے دوبارہ کامیابی حاصل کر لی ہے، میری لینڈ سے ڈیموکریٹک گورنر ویس مور میری لینڈ سے دوبارہ گورنر منتخب ہو گئے ہیں جبکہ امریکی میڈیا پنسلوانیا سے ڈیموکریٹک گورنر جوش شاپیرو نے پنسلوانیا کی گورنر شپ پر دوبارہ فتح حاصل کر لی ہے۔
فلسطنیوں کے لیے آواز بلند کرنے والی ڈیموکریٹک رہنما رشیدہ طلیب نے مشی گن 12 سے ایوانِ نمائندگان مین دوبارہ کامیابی حاصل کرلی۔
ریپبلکن امیدوار بائرن ڈونلڈز نے اپنے ڈیموکریٹک حریف ڈیوڈ جولی کو شکست دے کر فلوریڈا کے گورنر کا انتخاب جیت لیا ہے، امریکی میڈیا کے مطابق اس فتح کے ساتھ بائرن ڈونلڈز فلوریڈا کی تاریخ کے پہلے سیاہ فام گورنر بننے جا رہے ہیں جبکہ ڈیموکریٹک امیدوار کیشا لانس باٹمز نے جارجیا کے گورنر کا مقابلہ جیت لیا ہے۔
ابتدائی نتائج کے مطابق اٹلانٹا کی سابق میئر اور ڈیموکریٹک رہنما کیشا لانس باٹمز ریاست جارجیا کی گورنر منتخب ہو گئی ہیں، امریکی میڈیا کیشا لانس باٹمز امریکی تاریخ میں کسی بھی امریکی ریاست کی گورنر منتخب ہونے والی پہلی سیاہ فام خاتون بن گئی ہیں انہوں نے نے ریپبلکن حریف رِک جیکسن کو شکست دے کر جارجیا میں گورنر شپ کا کنٹرول حاصل کیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق مختلف ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی اور انتخابی نتائج سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے، جس کے بعد کانگریس کے ایوانِ بالا اور ایوانِ زیریں میں جماعتوں کی پوزیشن مزید واضح ہوگی۔

