9 نومبر محض ایک عظیم شاعر اور مفکر کی سالگرہ منانے کا دن نہیں، بلکہ یہ اپنے قومی وجود، فکری سمت اور اجتماعی کردار کا جائزہ لینے کا موقع بھی ہے۔ علامہ محمد اقبال وہ شخصیت تھے جنھوں نے برصغیر کے مسلمانوں کو صرف شاعری کے ذریعے متاثر نہیں کیا بلکہ جداگانہ شناخت، سیاسی تشخص اور ایک آزاد مستقبل کا شعور بھی عطا کیا۔
اقبال نے ایک ایسے دور میں مسلمانوں کو بیداری کا پیغام دیا، جب وہ سیاسی انتشار، معاشی پسماندگی، فکری جمود اور احساسِ محرومی کا شکار تھے۔ انھوں نے مسلمانوں کو یہ احساس دلایا کہ کوئی قوم اس وقت تک اپنا مقام حاصل نہیں کر سکتی جب تک وہ اپنی خودی، خود اعتمادی اور اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے کا حوصلہ پیدا نہ کرے۔
آج جب ہم قیام پاکستان کے مقاصد، مسائل اور مستقبل پر غور کرتے ہیں تو ایک بنیادی سوال ہمارے سامنے آتا ہے،کیا ہم نے اقبال کے تصورِ پاکستان کو سمجھا اور اسے عملی شکل دینے کی سنجیدہ کوشش بھی کی ہے؟
1930 کے خطبہ الہ آباد میں اقبال نے مسلمانان ہند کے لیے الگ سیاسی وحدت کا تصور پیش کیا۔ ان کا مقصد محض ایک نئی ریاست کا قیام نہیں تھا بلکہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا تھا جہاں مسلمان اپنی تہذیبی، مذہبی، سیاسی اور فکری شناخت کے مطابق زندگی گزار سکیں۔
اقبال کے نزدیک ریاست کی اصل کامیابی اس کے رقبے، فوجی طاقت یا معاشی وسائل سے نہیں بلکہ اس کے اخلاقی کردار، عدل و انصاف، علم و دانش اور انسانی وقار کے تحفظ سے متعین ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اقبال کی فکر آج بھی ہماری قومی زندگی کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔افسوس کہ ہم نے اقبال کے اشعار تو یاد کر لیے، مگر ان کے پیغام کو اپنی قومی زندگی کا حصہ بنانے میں وہ سنجیدگی نہیں دکھائی جس کی ضرورت تھی۔اقبال کا مشہور شعر ہے۔
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
یہ شعر محض ایک خوبصورت ادبی تخلیق نہیں بلکہ ایک مکمل فلسفہ حیات کا خلاصہ ہے۔ اقبال انسان کو اپنی صلاحیتوں کی پہچان، مسلسل محنت، بلند کردار اور مقصد سے وابستگی کا درس دیتے ہیں۔ لیکن آج ہماری قومی زندگی میں خود انحصاری کے بجائے دوسروں پر انحصار، خود اعتمادی کے بجائے احساسِ کمتری اور اجتماعی جدوجہد کے بجائے ذاتی مفادات کا غلبہ دکھائی دیتا ہے۔
ہم معاشی بحران کا حل قرضوں میں تلاش کرتے ہیں، تعلیمی کے لیے غیر ملکی ماڈلز کی طرف دیکھتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرنے کے بجائے دوسروں کی کامیابیوں سے مرعوب ہو جاتے ہیں۔
کیا یہ وہی قوم ہے جسے اقبال نے شاہین کی پرواز کا استعارہ دیا تھا؟اقبال کی فکر میں تعلیم اور علم کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ وہ ایسی تعلیم کے حامی تھے جو انسان میں تحقیق، تخلیق، تنقیدی شعور اور اخلاقی ذمے داری پیدا کرے۔
آج پاکستان کو سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک معیاری تعلیم کی فراہمی کا ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں ڈگریوں کی تعداد تو بڑھ رہی ہے، لیکن تحقیق، سائنسی جستجو، تخلیقی صلاحیت اور عملی مہارتوں کے حوالے سے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ترقی کا راستہ علم، تحقیق، جدید ٹیکنالوجی، مضبوط اداروں اور میرٹ کے احترام سے ہو کر گزرتا ہے۔ آج مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل انقلاب اور جدید سائنسی علوم دنیا کی معیشت اور سیاست کو تبدیل کر رہے ہیں۔ پاکستان کے نوجوانوں کو اس تبدیلی کا محض تماشائی نہیں بلکہ فعال حصہ دار بننا ہوگا۔
اقبال کا شاہین بلند پرواز کے ساتھ ساتھ خودداری، جرات اور بلند مقاصد کی علامت بھی ہے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو یہی اعتماد دینا ہوگا کہ وہ دنیا میں اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر مقام حاصل کر سکتے ہیں۔
کسی بھی ریاست کی مضبوطی کا اصل انحصار اس کے اداروں اور شہریوں کے کردار پر ہوتا ہے۔ اقبال ایک ایسے معاشرے کا خواب دیکھتے تھے جہاں انصاف، مساوات، دیانت داری اور انسانی احترام کو بنیادی حیثیت حاصل ہو۔
آج ہمیں اپنے اجتماعی رویوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ قانون کی بالادستی، میرٹ، شفافیت، برداشت اور اختلافِ رائے کا احترام کسی مہذب معاشرے کی بنیادی خصوصیات ہیں۔ اقبال کی فکر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ فرد کی تعمیر کے بغیر معاشرے کی تعمیر ممکن نہیں۔ ایک مضبوط پاکستان کے لیے ہمیں ایسے شہری، ایسے رہنما اور ایسے ادارے درکار ہیں جن کی بنیاد دیانت، اہلیت اور قومی ذمے داری پر ہو۔
پاکستان کی سب سے بڑی قوت اس کی نوجوان آبادی ہے۔ لیکن نوجوانوں کو محض یومِ اقبال کی تقریبات میں شرکت، تقاریر سننے اور اشعار پڑھنے تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔ انھیں معیاری تعلیم، روزگار کے مواقع، تحقیق کی سہولتیں، جدید ٹیکنالوجی تک رسائی اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہوگا۔
ہمیں نوجوانوں کو یہ باور کرانا ہوگا کہ پاکستان کا مستقبل کسی ایک حکومت، کسی ایک ادارے یا کسی ایک طبقے سے وابستہ نہیں۔ یہ ہم سب کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ اقبال کو صرف شاعری کی حد تک محدود کرنا ان کے فکری مقام کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ان کی فکر کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی قومی کمزوریوں کا اعتراف کریں، اپنی ترجیحات درست کریں اور ایک بہتر معاشرے کی تشکیل کے لیے عملی اقدامات کریں۔
پاکستان آج جن چیلنجز سے دوچار ہے، ان میں معاشی عدم استحکام، سیاسی تقسیم، تعلیمی پسماندگی، ادارہ جاتی کمزوریاں اور قومی اعتماد کا فقدان نمایاں ہیں۔ ان مسائل کا حل کسی ایک تقریر، ایک نعرے یا ایک شخصیت کے انتظار میں نہیں بلکہ اجتماعی عزم، دیانت دار قیادت اور مسلسل قومی جدوجہد میں پوشیدہ ہے۔
اقبال نے ہمیں صرف خواب دیکھنا نہیں سکھایا بلکہ منزل کا شعور ،خودی، عمل اور بلند حوصلے کا پیغام دیا۔ اب یہ ہماری ذمے داری ہے کہ ہم ان کے خواب کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔

