اقوام متحدہ حقوق انسانی کونسل کے سوشل فورم کی 17 ویں سالانہ کانفرنس

WhatsApp Image 2025 11 14 at 21.20.24 scaled


اقوام متحدہ کا مرکز امریکہ کے شہر نیویارک میں ہے لیکن دراصل 

اقوام متحدہ کی ابتداء لیگ آف نیشنز کے نام سے سوئزرلینڈ کے خوبصورت شہر جینیوا سے ہوئی تھی ۔ وہاں جینیوا جھیل کے کنارے بنی لیگ آف نیشنز کی تاریخی عمارت جس کی پیشانی پر جلی حروف میں یونائٹڈ نیشن لکھا ہے دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے ۔ اس بلڈنگ میں اب بھی اقوام متحدہ کے بہت سے دفاتر قائم ہیں جس میں خصوصیت اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل کو حاصل ہے ۔ ( UNHRC) انسانی حقوق کے حوالہ سے یہ بلڈنگ سارا سال مصروف نظر اتی ہے ۔ 30/31 اکتوبر کو یہاں ہومن رائٹس کونسل کے سوشل فورم کا 17 واں سالانہ اجلاس اسمبلی ہال میں منعقد ہوا ۔ ہیومن رائٹس کونسل کی قرارداد 56/12 میں اس کانفرنس کا موضوع یہ طے ہوا تھا 

Contribution of education to the respect , promotion,protection and 

Of all human rights for all. 

اردو ترجمہ ۔ تمام انسانوں کے لئے انسانی حقوق کے احترام ،فروغ ،حفاظت اور تکمیل میں تعلیم کا کردار 

یہ فورم اقوام متحدہ کے رکن ممالک ، سول سوسائٹی ، این جی اوز  اور دیگر انٹرنیشنل ارگنائزیشن کے درمیان مکالمہ کی راہ ہموار کرنا ہے ۔ اس کانفرنس کے لئے ایسے موضوعات کا انتخاب کیا جاتا ہے جن کا تعلق حقوق انسانی اور سوشل جسٹس سے ہو ۔ اس کانفرنس کے لئے UNHCR چیرپرسن مقرر کرتی ہے جو تمام سیشنز کی صدارت کرتا ہے ۔ دو روز میں چار اجلاس ہوے ۔ دونوں روز صبح دس بجے سے ایک بجے تک اور پھر تین بجے سے شام چھ بجے تک ہونے والے اجلاسات اور اس کے مقررین کے لئے وقت مقرر تھا ۔ جس میں اس کانفرنس کے شرکاء اپنی تقاریر میں مسائل کا حل تجویز کرتے ہیں ۔ تمام تقاریر کا محور تعلیم کا مقصد معاشی و سماجی حقوق کی حفاظت ۔ معاشرتی و اقتصادی ترقی کی نظام تعلیم میں وضاحت ، بچوں کی بہبود و نگہداشت ، وسائل اور مواقع کی منصفانہ تقسیم ، تنازعات کے دوران بچوں کی مدد ، مالیاتی نظام کی اصلاح ، تدریس کے شعبے میں ملازمت کی ترغیب ، اسمارٹ فون کے استعمال سے طلبہ کی کارکردگی پر منفی اثرات کا مقابلہ ، معذور بچوں اور ترقی پذیر ممالک کے بچوں کے لئے تعلیم تک رسائی کی حمایت جیسے موضوعات شامل تھے ۔ 

اس کانفرنس کے مقررین میں ایک پاکستانی  دوست اور تین پاکستانی خواتین بھی شامل تھیں ۔ ہومیونیٹی فرسٹ کی طرف سے مکرم محمود الرحمان انور اور مکرمہ شاذیہ آصف آف Böblingen جرمنی نے تقاریر کیں ۔ ان کے علاوہ من ہائیم جرمنی یونیورسٹی کی طالبہ عافیہ منصور جو من ہائم کی مشہور سماجی شخمکرم منصور احمد لون کی صاحبزادی ہیں اور اپنے تعلیمی کیرئیر میں نام پیدا کرنے والی ستارہ عروج اکبر آف دوبئی نے بھی اسمبلی ہال سے خطاب کی سعادت پائی ۔ 

اس کے علاوہ دو دن جاری رہنے والی کانفرنس کے دوران انٹرنیشنل تنظیموں نے مختلف موضوعات پر گیارہ سمعینار بھی منعقد کئے ۔ Amnesty international  نے انسانی بنیادی حقوق، گورنمنٹ آف Goa انڈیا نے معذور افراد کو تعلیم سے آراستہ کرنے اور ہیومیونیٹی فرسٹ لندن نے جنگ سے متاثرہ علاقوں میں بچوں کی تعلیم اور صحت سے متعلق سمعینار منعقد کئے ۔ 

ہومیونیٹی فرسٹ کا سمعینار 

کانفرنس کے دوسرے روز درمیانی وقفہ کے دوران کانفرنس روم میں یہ سمعینار منعقد ہوا جس کے لئے ہومیونیٹی فرسٹ انٹرنیشنل کے چیرمین ڈاکٹر عزیز حفیظ اسی روز لندن سے تشریف لاۓ تھے ۔ نظامت کے فرائض ممتاز سماجی شخصیت مکرم محمود الرحمان انور نے سر انجام دئیے ۔ سمعینار کی پہلی مقرر مشہور و معروف جرنلسٹ جو اقوام متحدہ کے وومن کمشن کی ممبر بھی ہیں محترمہ فریدہ شہید تھیں ۔ آپ نے شروع میں یونیسکو کے جاری کردہ اعدادوشمار پیش کر کے تعلیم کے بنیادی حق سے محروم بچوں کے لئے پالیسی بنانے کی ضرورت بیان کی ۔ جن ممالک میں سکول درس گائیں ملڑی مقاصد کے لئے استعمال ہوتی ہیں ان کو روکنے کے لئے انٹرنیشنل قانون بنانے کی ضرورت پر زور دیا ۔ انسانی قدروں کو بچانے کے لئے تعلیم کی اہمیت اور سکولوں میں چھوٹی عمر میں نفرت کی بجاے پیار و محبت سکھانے کے لئے اساتذہ کی سپیشل ٹریننگ پر زور دیا ۔ ہومیونیٹی فرسٹ کے چیرمین ڈاکٹر عزیز حفیظ نے اظہار خیال کرتے ہوے بتایا کہ سوڈان ، غزہ ، یو کرائن اور مختلف وار زون سے دو ملین بچے متاثر ہوے ہیں ۔ ہومیونیٹی فرسٹ 62 ممالک میں کام کر رہی ہے ۔ اس حوالہ سے آپ نے غزہ اور یو کرائن میں کئے جانے والے امدادی کام کی سلائیڈذ بھی دکھائیں ۔ اسرائیل نے خیموں میں قائم بچوں کے سکولوں پر کی جانے والی بمباری کی تفصیل سےبھی آگاہ کیا ۔ آپ نے عراق اور شام میں لوگوں کے آنسو پوچھنے کے لئے ہومیونیٹی فرسٹ کی کوششوں کا بھی ذکر کیا ۔ 

گمبیا کے سابق سفیر اور اقوام متحدہ خصوصی تعلیم کمیٹی کے ممبر پروفیسر 

محمد ایم  او  Kah کی تقریر ڈیجٹل تعلیم سے متعلق تھی ۔ آپ نے کہا کہ وقت بدل چکا ہے ۔ اب اسمارٹ فون کتاب بھی ہے اور لائبریری بھی ۔ اس اسمارٹ کو مس انفرمیشن سے بچانا ہے ۔ بچوں کو ٹیکنالوجی کے منفی پہلوؤں سے بچانا اور مثبت راہ پر ڈالنا ہے ۔ ۔ نظام تعلیم صرف ملازمت کے لئے نہی بلکہ انسانیت سکھانے کے لئے ہو ۔ پالسی میکرز کو مجبور کیا جاے کہ وہ افریقہ اور دنیا کے دوسرے غریب ممالک کے بچوں تک ٹیکنالوجی کی رسائی آسان بنایں ۔ آپ نے ہومیونیٹی فرسٹ کیطرف سے افریقن ممالک میں آئی ٹی سنٹر قائم کرنے کو سراہا ۔ آپ نے بتایا کہ میرے ملک میں مسرور سکول میں دو ہزار پانچسو بچے زیر تعلیم ہیں ۔ اقوام متحدہ میں قائم ادارے اکنامک ،سوشل کلچر کے چیف ایڈوائزر Mr. Pradeep WAGLE نے کلاس روم اور سکولوں پر ہونے والے حملوں کے بچوں پر اثرات کا ذکر کیا ۔ بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کا اثر قبول کرتے ہوے بچوں کا دماغی طور پر اپ سیٹ ہو جانے پر بہت کم کام ہو رہا ہے ۔ آپ نے اس طرف توجہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ 

دوبئی سے آئی مہمان مقرر ستارہ عروج اکبر نے اپنے تجربات کی روشنی میں بتایا کہ ٹیچر کا کلاس روم میں رویہ ماحول پر بہت اثر انداز ہوتا ہے ۔ تعلیم حاصل کرنے کی امنگ پیدا کرنے کی عمر میں استاد کا رویہ ہر شاگرد کے ساتھ ایک جیسا ہونا بہت ضروری ہے ۔ آپ نے آن لائن تعلیم کو قابل اپروچ بنانے کی ضرورت پر زور دیا ۔ 

فلسطین کے بچوں کی بہبود کے لئے بنائی جانے والی تنظیم health care for Phlisteni children کے روح رواں Mr. Rauf Santhi نے غزہ میں بچوں کی حالت زار ، ہسپتالوں میں پائی جانے والی بے بسی ۔ موبائل فون کی لائٹ میں کئے جانے والے آپریشن ۔ میڈیسن کی کمی ۔ امداد کے منتظر لوگوں کے بے بس چہروں پر مشتمل تصاویر بھی دکھائیں ۔  لیگل ایڈوائزر  Mrs. Kate Takes نے بتایا کہ شام ، مصر ، عراق ، اردن ،لبنان اور ترکی میں 25 لاکھ بے گھر بچے دنیا کی امداد کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔  تقاریر کے بعد حاضرین کو سوالات کرنے کا موقع بھی دیا گیا ۔ سوال کرنے والے زیادہ تر جنوبی امرکن ممالک کے طلبہ تھے جو خصوصی طور پر اس کانفرنس میں شرکت کے لئے اے تھے ۔ 

کانفرنس کا اختتامی سیشن 

اکتوبر 31 کی شام کو کانفرنس کا آخری سیشن ہوا جس سے UNHCR کے آفیشل نے خطاب کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس سال کے سوشل فورم میں تمام مقررین اس بات پر متفق تھے کہ تعلیم کوئی مراعات نہی بلکہ ایک حق اور مشترکہ ذمہ داری ہے ۔ ہم اس یقین کے ساتھ کانفرنس سے رخصت ہو رہے ہیں کہ تعلیم کو مساوات ،امن اور با اختیاری کی ایک زندہ قوت بنایا جاے ۔ بچوں اور نوجوانوں کو اپنے ساتھ ملا کر ہم نے کام کرنا ہے ۔ اس سال کے فورم نے ثابت کیا ہے کہ تعلیم افراد کو اپنی پوری صلاحیتوں کے ادراک نا انصافیوں کو چیلنج کرنے اور منصفانہ اور پائیدار معاشروں کی تعمیر میں برابر کی شرکت کے قابل بناتی ہے ۔ ہم سب انسانی حقوق اور تعلیم کو استعمال کر کے منصفانہ ،آزاد اور زیادہ پائیدار دنیا تشکیل دینے کی کوشش جاری رکھیں گے ۔ 

اس کانفرنس کے بارے میں میرا ذاتی تاثر یہی ہے کہ اردو محاورے کے مطابق 

“ رات گئی بات گئی “ کے مصداق ایسی کانفرنسز کے نتیجہ میں کسی بہتری کی امید رکھنا عبث ہے ۔ البتہ ایک فاہدہ ضرور ہے کہ ایسی کانفرسز کی بدولت دنیا میں پھیلی ارگنائزشنز کو ایک دوسر ے سے ملنے ، تجربات سے فائدہ اٹھانے اور سیکھنے کا موقع مل جاتا ہے ۔ رکن ممالک میں مسلم دنیا کی سیٹیں خالی ہی نظر ایں ۔ جماعت احمدیہ کے جو افراد اس کانفرنس میں موجود رہے ان میں مقررین کے علاوہ جرمنی سے مکرم منصور احمد لون ، مکرم ظاہر علی انور ، مکرم فضل الرحمان کھوکھر ، مکرمہ شائستہ کھوکھر ، مکرمہ شمیم عرفان شامل ہیں ۔ 

متعلقہ پوسٹ