حکومت کا نیٹ میٹرنگ ختم کرنے کا فیصلہ، سولر صارفین کے لیے بڑی پالیسی تبدیلی

IMG 20251218 WA0990

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سولر توانائی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ سسٹم ختم کرنے اور اس کی جگہ نیٹ بلنگ پالیسی نافذ کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ اس فیصلے پر عملدرآمد کے لیے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے باضابطہ طور پر کام شروع کر دیا ہے۔

حکومتی حکام کے مطابق نیٹ میٹرنگ پالیسی کے باعث پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو بھاری مالی نقصان کا سامنا تھا، جبکہ بجلی کے نظام اور گرڈ کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہو گیا تھا۔

نیٹ میٹرنگ کیا تھی؟

نیٹ میٹرنگ کے تحت سولر صارفین دن کے وقت اضافی بجلی قومی گرڈ میں شامل کرتے تھے اور رات یا ضرورت کے وقت وہی یونٹس واپس لے لیتے تھے۔ امپورٹ اور ایکسپورٹ یونٹس ایک ہی ریٹ پر ایڈجسٹ ہونے کی وجہ سے متعدد صارفین کے بجلی کے بل صفر یا نہایت کم آتے تھے، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد نے سولر سسٹمز نصب کروائے۔

نیٹ میٹرنگ ختم کرنے کی وجہ

حکومت اور پاور سیکٹر کے مؤقف کے مطابق نیٹ میٹرنگ کی وجہ سے:

بجلی کمپنیوں کو اربوں روپے کا نقصان ہوا

گرڈ انفراسٹرکچر کے اخراجات پورے نہ ہو سکے

مالی دباؤ میں اضافہ ہوا

ان وجوہات کے باعث پالیسی میں تبدیلی کا فیصلہ کیا گیا۔

نیا نظام: نیٹ بلنگ

نئی نیٹ بلنگ پالیسی کے تحت:

گرڈ سے لی گئی بجلی قومی ٹیرف کے مطابق ہوگی (تقریباً 55 سے 65 روپے فی یونٹ)

سولر سے گرڈ کو دی گئی بجلی کا ریٹ کم ہوگا (تقریباً 27 روپے فی یونٹ)

امپورٹ اور ایکسپورٹ یونٹس کا الگ الگ حساب رکھا جائے گا

مثال کے طور پر:
اگر کوئی صارف 300 یونٹ بجلی گرڈ سے لے اور 300 یونٹ سولر بجلی گرڈ کو فراہم کرے تو نیٹ بلنگ میں اسے تقریباً 9,900 روپے ادا کرنا ہوں گے، جبکہ نیٹ میٹرنگ میں یہی بل تقریباً صفر ہو سکتا تھا۔

کن صارفین پر پالیسی لاگو ہوگی؟

نئی پالیسی صرف نئے سولر کنکشن یا نئے کنٹریکٹس پر لاگو ہوگی

جن صارفین کے پاس پہلے سے نیٹ میٹرنگ کا 7 سالہ کنٹریکٹ موجود ہے، وہ کنٹریکٹ مکمل ہونے تک پرانے نظام پر رہیں گے

کنٹریکٹ ختم ہونے کے بعد ان پر بھی نیٹ بلنگ لاگو ہو جائے گی

سب سے زیادہ متاثر کون ہوگا؟

وہ صارفین جو رات کے وقت زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں

جن کے پاس بیٹری یا ہائبرڈ سولر سسٹم موجود نہیں

جو مکمل طور پر گرڈ پر انحصار کرتے ہیں

کس کو فائدہ ہو سکتا ہے؟

دن کے وقت زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین

بیٹری یا ہائبرڈ سولر سسٹم رکھنے والے افراد

وہ صارفین جو گرڈ سے کم بجلی لیتے ہیں

ماہرین کا مشورہ

توانائی ماہرین کے مطابق نئے سولر سسٹم لگوانے سے قبل آن گرڈ سسٹمز پر دوبارہ غور کیا جانا چاہیے، جبکہ ہائبرڈ یا بیٹری بیسڈ سسٹمز مستقبل میں زیادہ محفوظ ثابت ہو سکتے ہیں۔ موجودہ سولر صارفین کو اپنے نیٹ میٹرنگ کنٹریکٹس کی مدت ضرور چیک کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

حکومت کے اس فیصلے کے بعد سولر صارفین کو وہ مالی فائدہ حاصل نہیں رہے گا جو نیٹ میٹرنگ کے تحت ممکن تھا۔ نئی پالیسی کے نتیجے میں گرڈ سے بجلی مہنگی اور سولر سے فروخت کی جانے والی بجلی نسبتاً سستی ہو گی، جس سے بجلی کے بل دوبارہ نمایاں ہونے کا امکان ہے۔

متعلقہ پوسٹ