اسلام آباد |: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے شہریوں کے لیے مفت علاج کی سہولت فراہم کرنے والے وزیراعظم صحت کارڈ پروگرام کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ علاج اور صحت کی سہولیات تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور کمزور طبقے کا سہارا بننا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ صحت کارڈ پروگرام کا اجرا عوامی فلاح کے لیے حکومت کے پختہ عزم کا تسلسل ہے۔ ان کے مطابق صحت کے بغیر تعلیم، کھیل اور معاشی سرگرمیوں سمیت زندگی کے کسی بھی شعبے میں ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2016 میں اس پروگرام کا آغاز سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور میں ہوا تھا، جس سے لاکھوں خاندان مستفید ہو چکے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ حکومت عوام کو ان کی دہلیز پر صحت کی سہولتیں فراہم کر رہی ہے، جبکہ اشرافیہ بیرونِ ملک مہنگا علاج کرا سکتی ہے مگر عام آدمی کے لیے یہ ممکن نہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پروگرام میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے تھرڈ پارٹی مانیٹرنگ کی جائے گی۔
وزیراعظم نے سندھ میں بھی صحت کارڈ پروگرام کے نفاذ کی تجویز کو قابلِ غور قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ سے مشاورت کے بعد اس کا حل نکالا جائے گا، تاکہ وہاں کے عوام بھی اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور پنجاب میں صحت سے متعلق پروگرام کامیابی سے جاری ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے ایک کروڑ سے زائد شہریوں کو مفت علاج کی سہولت حاصل ہوگی، جبکہ ان علاقوں میں 70 ہسپتال اس پروگرام میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ واحد صوبہ ہے جہاں وزیراعظم صحت کارڈ نافذ نہیں، تاہم دیگر تمام صوبے اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
وزیراعظم صحت کارڈ پروگرام کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد ارشد قائم خانی نے بتایا کہ یہ پروگرام اب یونیورسل ہیلتھ کوریج کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس کے تحت 600 سے زائد سرکاری و نجی ہسپتالوں میں کیش لیس علاج ممکن ہوگا۔ ان کے مطابق شناختی کارڈ اور بچوں کا ب فارم ہی صحت کارڈ کے طور پر استعمال کیا جا سکے گا، اور کہیں بھی رقم ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
تقریب کے اختتام پر وزیراعظم نے اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے صحت کارڈز بھی تقسیم

