ایران کی چابہار بندرگاہ سے علیحدگی پر مودی حکومت کو اندرونِ ملک شدید تنقید کا سامنا

IMG 20260118 WA1369


نئی دہلی: ایران کی اسٹریٹجک اہمیت کی حامل چابہار بندرگاہ سے بھارت کی علیحدگی کے فیصلے پر وزیرِ اعظم نریندر مودی کو اپنے ہی ملک میں سخت سیاسی تنقید کا سامنا ہے۔ اپوزیشن جماعت کانگریس نے اس فیصلے کو قومی مفادات کے منافی قرار دیتے ہوئے حکومت پر شدید حملہ کیا ہے۔
کانگریس پارٹی کی جانب سے ایک ویڈیو جاری کی گئی جس کے کیپشن میں لکھا گیا: “نریندر مودی نے ایک بار پھر ٹرمپ کے آگے سرینڈر کر دیا”۔ ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مودی حکومت نے بیرونی دباؤ کے آگے جھک کر بھارت کے طویل المدتی اسٹریٹجک اور معاشی مفادات کو نقصان پہنچایا۔
اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ چابہار بندرگاہ وسطی ایشیا اور افغانستان تک بھارت کی رسائی کے لیے ایک کلیدی منصوبہ تھا، جس سے دستبرداری بھارت کے علاقائی اثر و رسوخ کو کمزور کرے گی۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ یہ فیصلہ آزاد خارجہ پالیسی کے دعوؤں کے برعکس ہے اور بھارت کو عالمی سطح پر نقصان پہنچا سکتا ہے۔
حکومتِ ہند کی جانب سے تاحال اپوزیشن کے الزامات پر تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم حکومتی حلقے ماضی میں اس فیصلے کو عالمی پابندیوں اور بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی حالات سے جوڑتے رہے ہیں۔

متعلقہ پوسٹ