اسلام آباد: روانڈا اور پاکستان نے تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔ اس پیش رفت کا اعلان اسلام آباد میں روانڈا ہائی کمیشن کی جانب سے منعقد کیے گئے پہلے روانڈا کافی فیسٹیول کے موقع پر کیا گیا، جس کا مقصد روانڈا کی اعلیٰ معیار کی عربیکا کافی کو پاکستانی مارکیٹ میں متعارف کرانا اور دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانا تھا۔
یہ تقریب جنوب–جنوب تعاون، تجارتی سفارت کاری اور ثقافتی روابط کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے روانڈا کی ہائی کمشنر ایچ ای ہریریمانا فاتو نے روانڈا کے وفد اور تمام شرکاء کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے کہا کہ اس فیسٹیول کا مقصد پاکستان میں روانڈا کی عالمی شہرت یافتہ کافی کو متعارف کرانا اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔
روانڈا کے وزیر تجارت و صنعت ایچ ای مسٹر پرُوڈنس سباہیزی نے تقریب میں شرکت پر شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پاکستانی مہمان نوازی کو سراہا۔ انہوں نے روانڈا کے کاروبار دوست ماحول پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ روانڈا افریقہ کے لیے ایک اہم تجارتی گیٹ وے ہے، جہاں سے تقریباً ڈیڑھ ارب صارفین تک رسائی ممکن ہے۔
انہوں نے بتایا کہ روانڈا، پاکستان سے چاول، ٹیکسٹائل اور دواسازی کی مصنوعات درآمد کرنے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے اور پاکستانی باسمتی چاول روانڈا میں اپنی اعلیٰ کوالٹی کی وجہ سے خاصا مقبول ہے۔
وزیر تجارت نے کافی فیسٹیول کو حوصلے، ثقافتی شناخت اور معاشی ترقی کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ خاص طور پر کافی کے شعبے میں براہِ راست درآمد و برآمد کے مربوط نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پاکستانی سرمایہ کاروں کو روانڈا کی کافی انڈسٹری میں سرمایہ کاری کی دعوت دی اور زراعت، کان کنی، انفراسٹرکچر، تعلیم، مصنوعی ذہانت اور صحت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔
انہوں نے گزشتہ برس طے پانے والے تجارتی مفاہمتی یادداشت (MoU) پر عملدرآمد کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی و سرمایہ کاری روابط کو فروغ دیا جا سکے۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر برائے سمندری امور محمد جنید انور نے کہا کہ کافی ڈپلومیسی دوطرفہ تعلقات کے فروغ، بحری رابطوں میں بہتری، سپلائی چین کی تنوع اور طویل المدتی شراکت داری کے لیے اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
اس موقع پر وزیراعظم پاکستان کے قومی کوآرڈینیٹر برائے سیاحت سردار یاسر الیاس نے خطاب کرتے ہوئے پاکستان اور روانڈا کے درمیان سیاحت کے وسیع امکانات کی نشاندہی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کی تقریبات نہ صرف تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دیتی ہیں بلکہ ثقافتی ہم آہنگی اور سیاحتی تعاون کو بھی مضبوط بناتی ہیں۔
روانڈا نیشنل ایگریکلچرل ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ بورڈ (NAEB) کے چیف ایگزیکٹو کلاؤڈ بزیمانا نے روانڈا کے کافی سیکٹر میں پالیسی اصلاحات اور ترقی پر پریزنٹیشن دی اور پاکستانی کاروباری طبقے کے لیے براہِ راست تجارتی مواقع اجاگر کیے۔ انہوں نے کہا، “ہم یہاں کاروبار کے لیے آئے ہیں۔”
سینیٹر مشاہد حسین سید نے روانڈا کی شاندار بحالی اور صدر پال کاگامے کی قیادت کو سراہتے ہوئے روانڈا کو عالمی سطح پر ایک کامیاب ماڈل قرار دیا۔ انہوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور علم کے تبادلے کے ذریعے دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے پر زور دیا۔
تقریب میں روانڈا کے کافی ایکسپورٹرز اور پاکستانی امپورٹرز کے درمیان پینل ڈسکشن بھی منعقد ہوئی، جس میں مارکیٹ تک رسائی، معیار، لاجسٹکس، برانڈنگ اور پائیدار شراکت داری کے ماڈلز پر غور کیا گیا تاکہ پاکستانی مارکیٹ میں روانڈا کافی کی موجودگی کو مزید بڑھایا جا سکے۔
روانڈا کافی فیسٹیول 2026 میں سفارت کاروں، اعلیٰ سرکاری حکام، کاروباری رہنماؤں، سرمایہ کاروں، کافی ماہرین، میڈیا نمائندگان اور سول سوسائٹی کے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ روانڈا ہائی کمیشن نے امید ظاہر کی کہ یہ فیسٹیول پائیدار تجارتی شراکت داریوں کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگا اور پاکستان–روانڈا تجارتی و ثقافتی تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا


