ڈنمارک غیر ملکی مجرموں کے لیے سخت پالیسی: ایک سال سے زائد قید کی سزا پر ملک بدری

dn 310126 d


ڈنمارک کی وزیراعظم میٹ فریڈرکسن نے اعلان کیا ہے کہ ملک ایک نئی سخت پالیسی نافذ کرنے جا رہا ہے جس کے تحت ایک سال یا اس سے زیادہ قید کی سزا پانے والے غیر ملکی شہریوں کو ان کی سزا مکمل ہونے کے بعد براہ راست ملک بدر کر دیا جائے گا۔
وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے کہا:
"ہم موجودہ بین الاقوامی قوانین اور کنونشنز کے دائرہ کار میں جہاں تک ممکن ہو، سب سے سخت اور فوری اقدامات اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔ اور جہاں یہ قوانین ناکافی ثابت ہوں گے یا ہمارے شہریوں کی حفاظت کے لیے کافی نہیں ہوں گے، تو ہمیں ان قوانین کو تبدیل کرنا ہوگا۔”
ایک سال سے زائد قید کی سزا پانے والے غیر ملکیوں (EU اور غیر EU دونوں) پر लागو ہوگی۔
سزا مکمل ہونے سے پہلے یا فوری بعد ملک بدری کا فیصلہ۔
سنگین جرائم (قتل، جنسی جرائم، سنگین منشیات، گروہی جرائم، دہشت گردی سے متعلق جرائم) میں تو 6 ماہ سے زائد سزا پر بھی ملک بدری ممکن ہو گی۔
مقصد: ڈنمارک میں "بار بار جرائم کرنے والوں” (recidivist foreign offenders) کی تعداد کو نمایاں طور پر کم کرنا اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ یہ پالیسی "انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں” بلکہ "قانون کی حکمرانی اور شہریوں کی حفاظت” کا معاملہ ہے۔
حکومت کے اتحادی جماعتوں اور ڈنمارک پیپلز پارٹی نے اس اقدام کی حمایت کی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور کچھ حزب اختلاف نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ پالیسی بین الاقوامی ذمہ داریوں (خاص طور پر یورپی انسانی حقوق کنونشن اور غیر واپسی کے اصول) سے ٹکرا سکتی ہے۔
میٹ فریڈرکسن کا واضح پیغام تھا کہ اگر موجودہ قوانین میں ترمیم کی ضرورت پڑی تو ڈنمارک اس سے گریز نہیں کرے گا، چاہے اس کے لیے یورپی سطح پر بحث ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔
یہ اعلان ڈنمارک کی جانب سے گزشتہ چند برسوں میں غیر ملکی مجرموں کے حوالے سے سخت ترین پالیسیوں میں سے ایک ہے اور اسے "زیرو ٹالرینس” پالیسی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ پوسٹ