فتنۂ الہندوستان، بی ایل اے کے بیانیہ کی تشہیر؛ ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظور

IMG 20260209 WA1772


کوئٹہ (9 فروری 2026) — بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کی ایک انسداد دہشت گردی عدالت نے فتنۂ الہندوستان اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے بیانیے کی تشہیر کرنے کے الزام میں گرفتار ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔
تفتیشی افسر نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ ملزم کے مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے اہم ثبوت اور ڈیٹا ریکور کرنا باقی ہے۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ ملزم کے فون، کمپیوٹر اور دیگر الیکٹرانک آلات کی فارنسک جانچ کے ساتھ ساتھ اس کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز (فیس بک، ٹوئٹر/ایکس، ٹیلی گرام، واٹس ایپ اور یوٹیوب) سے مواد حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ مکمل نیٹ ورک اور دیگر ممکنہ ملزمان تک رسائی ممکن ہو سکے۔
عدالت نے تفتیشی افسر کی استدعا منظور کرتے ہوئے ملزم کو 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس/سی ٹی ڈی کے حوالے کر دیا۔
ملزم پر الزام ہے کہ وہ
بی ایل اے کے پراپیگنڈہ مواد کو منظم انداز میں پھیلا رہا تھا
فتنۂ الہندوستان کے نام سے چلنے والے بیانیے کو فروغ دے رہا تھا
سوشل میڈیا پر جعلی خبروں، ویڈیوز اور تصاویر کے ذریعے نفرت انگیز مواد شیئر کر رہا تھا
پاکستان مخالف اور علیحدگی پسندانہ بیانیے کو تقویت پہنچا رہا تھا
عدالت نے ملزم کے وکیل کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی اور تفتیشی اداروں کو ہدایت کی کہ وہ جلد از جلد تفتیش مکمل کر کے چالان عدالت میں جمع کرائیں۔
یہ مقدمہ پاکستان کے اندرون ملک اور بیرون ملک سوشل میڈیا پر چلنے والے ہائبرڈ وارفیئر اور دہشت گرد تنظیموں کے پراپیگنڈہ کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔

متعلقہ پوسٹ