اسلام آباد / پشاور — رمضان المبارک کے دوران افطار کے وقت پاکستان کے مختلف شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے جس سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور شہری گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے۔
محکمہ موسمیات کے سیسمولوجیکل سینٹر کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.7 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کی گہرائی 79 کلومیٹر تھی اور مرکز افغانستان کا کوہ ہندوکش خطہ تھا — جو خطے میں زلزلوں کا سب سے بڑا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
جھٹکے اسلام آباد، پشاور، مردان، باجوڑ، پاراچنار، مالاکنڈ، شمالی وزیرستان، صوابی، دیر بالا اور سرگودھا سمیت متعدد شہروں اور اضلاع میں محسوس کیے گئے۔ افطار کا وقت ہونے کی وجہ سے اکثر لوگ گھروں میں موجود تھے، جھٹکے محسوس ہوتے ہی خواتین، بچے اور بزرگ گھبراہٹ کے عالم میں کھلی جگہوں پر نکل آئے۔
کوہ ہندوکش خطہ ٹیکٹونک پلیٹوں کی سرحد پر واقع ہونے کی وجہ سے زلزلوں کا مرکز سمجھا جاتا ہے اور یہاں سے اٹھنے والے جھٹکے اکثر پاکستان کے شمالی اور وسطی علاقوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ این ڈی ایم اے اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز نے صورتحال کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔

