اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) — وزیراعظم محمد شہباز شریف نے منگل کو مستقبل کی ضروریات کے پیش نظر بجلی کی فراہمی کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی اور حالیہ بین الاقوامی صورتحال کے تناظر میں ملکی برآمدات کی پیشرفت کے حوالے سے اہم اجلاس کی صدارت کی۔
اجلاس میں وزیراعظم کو بجلی کی پیداوار کے حوالے سے طویل مدتی لائحہ عمل، عالمی صورتحال میں برآمدات کے مواقع، درپیش چیلنجز اور ان سے نمٹنے کے لیے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم نے کہا کہ خطے کی کشیدہ صورتحال کی وجہ سے تیل کی رسد میں رکاوٹوں کے باوجود ملک میں بجلی کی پیداوار میں قابل تجدید توانائی کا مناسب حصہ ہونے کی وجہ سے کوئی توانائی کا بحران پیدا نہیں ہوا۔ انہوں نے شمسی توانائی اور دیگر قابل تجدید ذرائع کو بجلی شعبے کا مستقبل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان ذرائع کو قومی سطح پر مزید وسعت دینے کے لیے جامع لائحہ عمل تشکیل دیا جائے۔
وزیراعظم نے بیٹری توانائی سٹوریج سسٹم کے منصوبے پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی اور پاکستان نیشنل شIPPING کارپوریشن (پی این ایس سی) کو سمندری راستے سے برآمدات بڑھانے کے لیے بحری جہازوں کا انتظام کرنے کی ہدایات جاری کیں۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ عالمی کشیدگی اور چیلنجز کے باوجود کامیاب سفارتکاری کی بدولت خلیجی ممالک کو پاکستانی برآمدات جاری ہیں۔ علاقائی کشیدگی کے باوجود خلیجی ممالک میں پاکستانی زرعی اجناس کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
بریفنگ کے اہم نکات:
فی الحال بجلی کی کل پیداوار میں 55 فیصد حصہ قابل تجدید ذرائع سے جبکہ 45 فیصد حیاتیاتی (فوسل) ایندھن سے حاصل ہو رہا ہے۔
اگلے دس سال میں قابل تجدید ذرائع سے بجلی کی پیداوار کو 90 فیصد تک اور فوسل فیول سے پیداوار کو 10 فیصد تک لے جانے کی منصوبہ بندی جاری ہے۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء ڈاکٹر احسن اقبال، رانا تنویر حسین، جام کمال خان، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، احد چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، سردار اویس احمد لغاری، جنید انور چوہدری، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، معاونین خصوصی ہارون اختر اور طارق باجوہ، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم نے تاکید کی کہ قابل تجدید توانائی کی طرف منتقلی پاکستان کے توانائی شعبے کو مستحکم اور پائیدار بنانے کے ساتھ ساتھ برآمدات میں اضافے میں بھی مدد دے گی۔

