واشنگٹن: ایران کے ساتھ جاری تنازع نے عالمی سیاست میں گہری تقسیم پیدا کر دی ہے۔ امریکہ میں سیاسی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں جبکہ یورپی ممالک نے فوجی کارروائیوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ متعدد ممالک سفارتی حل کی طرف راغب ہیں، لیکن خطے میں فوجی تیاریاں جاری ہیں۔ توانائی کی سپلائی، سلامتی اور معاشی اثرات کے خدشات کے باعث عالمی سطح پر ہنگامی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
امریکی کانگریس میں ایک ڈیموکریٹک قانون ساز نے دفاع کے سیکریٹری پیٹ ہیگسیتھ کے خلاف مواخذے (impeachment) کی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایریزونا سے تعلق رکھنے والی نمائندہ یاسامین انصاری (Rep. Yassamin Ansari) نے پیر کو کہا کہ وہ اگلے ہفتے مواخذے کے آرٹیکلز متعارف کروائیں گی۔ ان کا الزام ہے کہ ہیگسیتھ نے اپنے عہدے کے حلف کی خلاف ورزی کی، آئین کی خلاف ورزی کی اور ایران کے خلاف "غیر قانونی جنگ” میں مرکزی کردار ادا کیا۔
انصاری نے کہا کہ صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار ہے، نہ کہ صدر یا ان کے ساتھیوں کو۔ انہوں نے ہیگسیتھ پر امریکی فوجیوں کی جان خطرے میں ڈالنے، شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے اور جنگی جرائم کا الزام لگایا۔ خاص طور پر انہوں نے میناب (Minab) میں ایک لڑکیوں کے سکول پر بمباری کا ذکر کیا جس میں متعدد شہری ہلاک ہوئے۔ یہ دوسری ایسی کوشش ہے؛ اس سے پہلے مشی گن کے نمائندہ نے بھی اسی طرح کی مہم چلائی تھی۔
ری پبلکن-led ہاؤس میں اس اقدام کے کامیاب ہونے کے امکانات بہت کم ہیں، تاہم یہ امریکی حکومت کے اندر گہرے سیاسی تقسیم کو اجاگر کرتا ہے۔ ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ جنگی فیصلے کانگریس کی مشاورت کے بغیر کیے جا رہے ہیں، جبکہ قومی سلامتی اور شہری ہلاکتوں کے خدشات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔
عالمی ردعمل اور تنازع کا پس منظر
ایران-امریکہ تنازع فروری 2026 میں شدت اختیار کر گیا جب امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ آپریشن "Epic Fury” کے تحت ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کیے۔ اس میں ایرانی قیادت سمیت فوجی اہداف نشانہ بنائے گئے، لیکن شہری علاقوں میں بھی نقصان ہوا۔ ایران نے جواب میں میزائل اور ڈرون حملے کیے، جس سے علاقائی تناؤ بڑھ گیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر الٹی میٹم دیا ہے کہ سٹریٹ آف ہرموز (Strait of Hormuz) کو دوبارہ کھولا جائے، ورنہ ایران کی پاور پلانٹس، پل اور دیگر شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ "ایک مکمل تہذیب ایک رات میں ختم ہو سکتی ہے”۔ ایران نے یہ مطالبہ مسترد کر دیا اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔
عالمی سطح پر توانائی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں کیونکہ ہرموز سے تیل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ یورپی ممالک نے فوجی کارروائیوں پر تحفظات ظاہر کیے ہیں اور سفارتی حل پر زور دیا ہے۔

