اسلام آباد محمد سلیم سے ) — حساس سرکاری اور شہری ذاتی ڈیٹا کی غیر قانونی خرید و فروخت کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے خفیہ اداروں کے ساتھ مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے اہم پیش رفت کی ہے۔ ایجنسی نے نیٹ ورک کے مبینہ مرکزی کردار کو گرفتار کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم سوشل میڈیا پر کافی سرگرم تھا اور مختلف آن لائن اشتہاری پلیٹ فارمز کے ذریعے پاکستانی شہریوں کا حساس ڈیٹا فروخت کرنے میں ملوث پایا گیا۔ ابتدائی تفتیش سے انکشاف ہوا ہے کہ یہ نیٹ ورک صرف مالی فائدے تک محدود نہیں تھا بلکہ مبینہ طور پر سی ڈی آر (کال ڈیٹیل ریکارڈز)، پاکستانی موبائل نمبروں سے منسلک واٹس ایپ ڈیٹا اور دیگر حساس معلومات تک بھی رسائی فراہم کر رہا تھا۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ یہ ڈیٹا غیر ملکی عناصر تک پہنچنے کے امکانات سے خارج نہیں۔ حکام اس پہلو پر مزید گہری چھان بین کر رہے ہیں تاکہ کسی بیرونی مداخلت یا رابطوں کی نوعیت کو واضح کیا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نیٹ ورک میں شامل مزید افراد اور سہولت کاروں کی نشاندہی جاری ہے۔ مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے آپریشنز جاری ہیں۔ حکام کے مطابق کیس میں مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔
ملزم کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ سیکیورٹی اداروں نے واضح پیغام دیا ہے کہ اس نیٹ ورک سے جڑے تمام عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور شہریوں کے حساس ڈیٹا کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا۔
یہ واقعہ پاکستانی شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کی سیکیورٹی کے حوالے سے ایک سنگین تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ NCCIA نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ڈیٹا کی حفاظت کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع دیں۔

