نیتن یاہو کا ایران پر حملے جاری رکھنے کا اعلان، اسرائیل احتجاج سے گونج اٹھا

IMG 20260412 WA0909


تل ابیب / انقرہ —
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے تمام داخلی و خارجی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔ انہوں نے ترک صدر رجب طیب اردوان پر ایران کو سہولت فراہم کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
نیتن یاہو کے اس اعلان کے فوری بعد تل ابیب کی سڑکوں پر ہزاروں اسرائیلی شہری نکل آئے۔ مظاہرین نے "جنگ روکو” اور "انسانیت کا قتل عام بند کرو” کے نعرے لگائے اور حکومت سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔
سابق اسرائیلی نائب چیف آف اسٹاف جنرل یائیر گولان نے حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا: "فاتح کو اپنی جیت کا اعلان بار بار دہرانے کی ضرورت نہیں پڑتی — نیتن یاہو اور ان کی حکومت کو اب گھر چلے جانا چاہیے۔” گولان کے مطابق وزیراعظم اس لیے دباؤ میں ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جنگ کے اہداف پورے نہیں ہو سکے۔
ترکیہ نے نیتن یاہو کے بیانات کو یکسر مسترد کر دیا۔ ترک صدارتی دفتر کے ترجمان برہان الدین دوران نے نیتن یاہو کو "گرفتاری کے وارنٹ یافتہ مجرم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی سیاسی بقا کے لیے پورے خطے کو جنگ کی آگ میں دھکیل رہے ہیں اور غزہ میں نسل کشی کے ذمہ دار ہونے کی وجہ سے انہیں کسی کو درس دینے کا اخلاقی یا قانونی حق حاصل نہیں۔
نیتن یاہو اس وقت بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں جنگی جرائم کے مقدمات، عالمی تنہائی، اور اپنے ہی ملک میں بڑھتی عوامی مخالفت کا سامنا کر رہے ہیں۔ 12 اپریل 2026 کو سامنے آنے والے ان بیانات نے مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی کشیدگی کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔

متعلقہ پوسٹ