امریکہ نے اقوامِ متحدہ کی ماہر فرانسسکا البانیز پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دیں


نیو یارک —
امریکہ نے فلسطینی علاقوں سے متعلق اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز پر ایک بار پھر مالی پابندیاں عائد کر دی ہیں، جس کے بعد ان کی عالمی بینکنگ اور کریڈٹ سہولیات تقریباً مکمل طور پر معطل ہو گئی ہیں۔
امریکی محکمۂ خزانہ کی ویب سائٹ پر جاری کردہ نوٹس کے مطابق یہ پابندیاں بدھ کو دوبارہ نافذ کی گئیں۔ یہ اقدام اُس وقت سامنے آیا جب ایک اپیل عدالت نے پہلے جاری کیے گئے حکمِ امتناع کو عارضی طور پر معطل کر دیا تاکہ مقدمے کے قانونی پہلوؤں کا مزید جائزہ لیا جا سکے۔ یہ مقدمہ البانیز کے شوہر نے اپنے نابالغ امریکی بچے کی جانب سے دائر کیا تھا۔
اطالوی نژاد البانیز، اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی خصوصی نمائندہ کی حیثیت سے، اکتوبر ۲۰۲۳ء سے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر سخت تنقید کرتی رہی ہیں اور انہوں نے اسرائیل پر نسل کشی کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے گزشتہ سال جولائی میں پابندیوں کا پہلی بار اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ البانیز نے ”یہود مخالف بیانات دیے، دہشت گردی کی حمایت کی اور امریکہ، اسرائیل اور مغرب کے خلاف کھلی نفرت کا اظہار کیا۔”
پابندیوں کے نفاذ سے البانیز عالمی سطح پر بلیک لسٹ ہو گئی ہیں اور اب ان کے لیے بین الاقوامی مالی لین دین انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔

متعلقہ پوسٹ