اتحادی 15 فیصد اضافے پر زور دے رہے، حتمی فیصلہ 10 جون کو کابینہ اجلاس میں
اسلام آباد، 7 جون 2026 — وزیراعظم کی زیرصدارت قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس کل 8 جون کو ہوگا جس میں چاروں صوبوں، گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ، وفاقی وزرا اور وزیراعظم آزاد کشمیر شرکت کریں گے۔ اکنامک سروے 9 جون کو پیش ہونے کا امکان ہے۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کا حجم 171 کھرب روپے ہوگا۔ معاشی شرح نمو کا ہدف 4.1 فیصد جبکہ اوسط مہنگائی کا تخمینہ 8.4 فیصد لگایا گیا ہے۔
بجٹ کے اہم خدوخال:
ذرائع کے مطابق ٹیکس ریونیو کا ہدف 15,267 ارب روپے، نان ٹیکس ریونیو 2,768 ارب روپے، وفاقی پی ایس ڈی پی کا حجم 11 کھرب روپے متوقع ہے۔ سود کی ادائیگی کے لیے 7,824 ارب اور دفاع کے لیے 2,665 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ پٹرولیم لیوی کا ہدف 1,727 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز بھی زیرغور ہے۔
تنخواہیں اور پنشن:
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 سے 10 فیصد تک اضافہ متوقع ہے، تاہم اتحادی جماعتیں 15 فیصد اضافے پر زور دے رہی ہیں۔ حتمی فیصلہ 10 جون کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ہوگا۔
نئے ٹیکس اقدامات:
آئندہ بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ کے منافع پر 10 سے 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔ سابق قبائلی علاقوں کا ٹیکس استثنیٰ ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز کی تجویز بھی شامل ہے۔ آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم:
سالانہ 20 کروڑ روپے تک سیل رکھنے والے دکاندار فکسڈ ٹیکس اسکیم کے اہل ہوں گے۔ ان پر ایک فیصد ٹیکس عائد ہوگا، آڈٹ سے استثنیٰ ملے گا اور ریٹرن کے ساتھ 25 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔
اشیائے خوردونوش اور دیگر فیصلے:
فارمولا دودھ، کیچپ، گھی، خوردنی تیل، چائے کی پتی، چینی اور خشک دودھ سمیت درجنوں اشیاء پر سیلز ٹیکس کے لیے پرچون قیمت پرنٹ لازمی قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں کی CKD کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ اور ہائبرڈ گاڑیوں پر رعایت ختم ہونے کا امکان ہے، جبکہ مقامی اسمبل الیکٹرک گاڑیوں پر 1 فیصد سیلز ٹیکس 30 جون تک برقرار رہے گا۔ سپر ٹیکس میں 1 سے 2 فیصد کمی کی تجویز بھی زیرغور ہے۔

