لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) برطانیہ کے ناٹنگھم یونیورسٹی اسپتال NHS ٹرسٹ کی زچگی خدمات کے بارے میں ایک آزاد جائزے میں انکشاف ہوا ہے کہ ۱۳ سالوں کے دوران انتظامی ناکامیوں اور غیر معیاری نگہداشت کے باعث ۴۴۴ خواتین اور ۷۶ نوزائیدہ بچوں کو قابلِ گریز نقصان پہنچا۔ ماہرِ زچگی ڈونا اوکنڈن کی سربراہی میں تیار کردہ ۴۰۱ صفحات پر مشتمل اس رپورٹ کو اسپتال کی تاریخ کا سب سے بڑا جائزہ قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں عملے کی مسلسل کمی، غنڈہ گردی اور زہریلی کارکردگی کی ثقافت اور والدین سے عدم توجہی کو بنیادی وجوہات قرار دیا گیا ہے۔ زچگی کے دوران خواتین کو ”خود سنبھالنے” کا کہا جاتا رہا۔ متاثرہ خاندانوں نے برسوں تک اپنے خدشات کو نظرانداز کیے جانے کا گلہ کیا۔ ٹرسٹ انتظامیہ نے متاثرہ خاندانوں سے غیر مشروط معافی مانگی ہے، تاہم متاثرین نے فوری عملی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

