تہران میں شہید رہبرِ اعلیٰ کے جلوسِ جنازہ میں لاکھوں سوگواروں کی شرکت


پورا شہر "خامنہ ای زندہ باد، اسرائیل امریکہ مردہ باد” کے نعروں سے گونج اٹھا۔ سیاہ لباس میں ملبوس سوگواروں نے سرخ پرچموں کے ساتھ اپنے لیڈر کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور ان کے ساتھ جاں بحق ہونے والے اہلِ خانہ کی آخری رسومات کے طے شدہ سرکاری پروگرام کے تحت پیر کو دارالحکومت تہران میں امام خمینی مسجد سے جلوسِ جنازہ نکالا گیا۔ یہ پرہجوم جلوس تقریباً ۱۰ سے ۱۲ گھنٹے تک دماوند اسٹریٹ، امام حسین اسکوائر، انقلاب اسٹریٹ، انقلاب اسکوائر، آزادی اسٹریٹ، آزادی اسکوائر اور شہید لشگری ہائی وے سے گزرتا ہوا مہرآباد ایئرپورٹ کے قریب اختتام پذیر ہوا، جہاں سے جسدِ خاکی قُم شہر لے جایا گیا۔
گزشتہ تین روز سے تہران کے گرینڈ مصلیٰ میں جاری سرکاری اور عوامی سوگواری کی تقریبات میں لاکھوں افراد نے علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے چار دیگر افراد کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ حکام کے مطابق پیر کے جلوس میں لاکھوں افراد شریک ہوئے، جبکہ حکومت نے اتوار اور پیر کو سرکاری تعطیل کا اعلان کرتے ہوئے تہران میں ڈیڑھ کروڑ افراد کی شرکت کا اندازہ ظاہر کیا تھا۔
ہزاروں سوگوار سرخ پرچم اور اپنے لیڈروں کی تصاویر لیے خاموشی سے چلتے رہے، جبکہ بہت سوں نے امریکہ و اسرائیل سے انتقام کے نعرے بلند کیے۔ لوگ اپنے رہبر کے تابوت اور اس پر رکھے صافے کے آخری دیدار کے لیے راستوں کے دونوں جانب کئی گھنٹوں تک کھڑے رہے۔
۱۴ ماہ کی پوتی کے چھوٹے تابوت نے سب کو رلا دیا
جنازے کے دوران سب کی توجہ کا مرکز وہ چھوٹا سا تابوت بنا جس میں خامنہ ای خاندان کی ۱۴ ماہ کی پوتی زہرا محمدی گلپائیگانی کا جسدِ خاکی موجود تھا۔ معصوم بچی کا تابوت دیکھ کر لاکھوں سوگواروں پر رقت طاری ہو گئی، اور عالمی میڈیا و سوشل میڈیا پر یہ منظر جنازے کا سب سے دلدوز لمحہ قرار پایا۔
ٹرمپ کو علامتی طور پر سنگسار کیا گیا
جلوس کے دوران لوگوں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی تصویر پر، جس پر لفظ "شیطان” درج تھا، کنکریاں برسائیں — یہ عمل حج کے دوران ادا کیے جانے والے ‘رمیِ شیطان’ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس دوران "مرگ بر امریکہ، مرگ بر اسرائیل” کے نعرے بھی بلند ہوتے رہے۔ یہ منظر سرکاری خبر رساں ادارے میزان نیوز ایجنسی کی جاری کردہ ویڈیو میں دیکھا گیا۔
نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای مسلسل غیر حاضر
سرکاری ٹی وی کے مطابق نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کے جنازے سے مسلسل تیسرے دن بھی غائب رہے، حالانکہ ملک کی تقریباً تمام اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت تقریب میں موجود تھی۔ صدرِ جمہوریہ مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف، عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایجئی اور پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز شریک ہوئے، جبکہ خامنہ ای کے تینوں بیٹے — مصطفیٰ، میثم اور مسعود — بھی نمازِ جنازہ میں موجود تھے۔ مجتبیٰ خامنہ ای کی مسلسل غیر موجودگی نے ان کی صحت، سیکیورٹی اور مستقبل کی قیادت سے متعلق نئی قیاس آرائیوں کو جنم دے دیا۔
آئندہ لائحہ عمل
سرکاری پروگرام کے مطابق ۸ جولائی کو جنازے کا قافلہ جنوبی عراق روانہ ہوگا، جہاں نجف میں حضرت علیؓ اور کربلا میں امام حسینؓ کے روضوں پر حاضری دی جائے گی۔ اس کے بعد قافلہ ایران واپس آئے گا اور ۹ جولائی کو علی خامنہ ای کو ان کے آبائی شہر مشہد میں روضہ امام رضا میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
ایرانی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق ایرانی پرچم میں لپٹا خامنہ ای کا تابوت ان خاندان کے افراد کے تابوتوں کے ساتھ ایک ٹرک پر رکھا گیا، جو ۲۸ فروری کو اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جنگ کے آغاز میں فضائی حملے میں جاں بحق ہوئے تھے۔

متعلقہ پوسٹ