اتمار بن گویر کے متنازعہ بیانات پر بین الاقوامی سطح پر ردِ عمل


تل ابیب — اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف مزید ہلاکت خیز کارروائیوں اور وسیع پیمانے پر بے دخلی کی حمایت کرتے ہوئے ایک بار پھر متنازعہ بیانات دیے ہیں، جن پر ایران اور دیگر حلقوں نے سخت ردِ عمل ظاہر کیا ہے۔
ایک پوڈکاسٹ میں بن گویر نے اسرائیلی فورسز سے کہا کہ وہ ‘‘ہر رات غزہ میں ۳۰ یا ۴۰ افراد کو ہلاک کریں’’ اور اس کارروائی کو صرف ‘‘خطرہ بننے والے افراد’’ تک محدود نہ رکھا جائے۔ انہوں نے پوری غزہ پٹی میں یہودی بستیوں کی تعمیر کی حمایت کی اور فلسطینی آبادی کو منصوبہ بندی کے تحت بڑے پیمانے پر دوسرے ممالک منتقل کرنے کا مطالبہ کیا۔ بن گویر نے یہ بھی کہا کہ ‘‘دہشت گردوں’’ کو ہجرت کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے بلکہ انہیں ‘‘ایک ایک کرکے’’ ہلاک کیا جانا چاہیے۔ یہ تبصرے روم براسلاوسکی کے پوڈکاسٹ میں دئیے گئے؛ براسلاوسکی غزہ میں قید رہنے والا سابق اسرائیلی یرغمالی ہے۔
اتمار بن گویر کے یہ بیانات ان کے سابقہ متنازعہ بیانات کی کڑی ہیں۔ وہ وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی اتحادی حکومت میں شامل ہیں اور پولیس و جیل خدمات کے ذمہ دار ہیں۔ جولائی ۲۰۲۶ میں ایک آبادکار مارچ میں انہوں نے اعلان کیا تھا کہ ‘‘پوری غزہ میں یہودی بستی ہوں گی’’ اور فلسطینیوں کی ہجرت کو فروغ دینے کی بات کی تھی۔ اگست ۲۰۲۵ میں مسجد اقصیٰ کے دورے کے موقع پر انہوں نے غزہ پر مکمل فوجی قبضے اور الحاق کا مطالبہ کیا تھا، اور فلسطینی آبادی کی بے دخلی کی کھل کر حمایت کی تھی۔ ۲۰۲۳ میں بھی ان کے بیانات نے ہدف بندی کے بارے میں سخت زبان استعمال کی گئی تھی۔
ایران نے اتمار بن گویر کے بیانات کی شدید مذمت کی ہے۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ ایسے بیانات کو آئندہ احتساب اور قانونی کارروائی کے لیے دستاویزی شکل میں محفوظ کیا جانا چاہیے، اور انھیں ‘‘صہیونی مجرم’’ قرار دیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یہ اعترافات ریکارڈ کیے جائیں تاکہ مستقبل میں مجرمان کے خلاف مقدمات میں پیش کیے جا سکیں۔
عالمی برادری میں بن گویر کے بیانات پر ممکنہ سفارتی ردِ عمل اور قانونی پہلو زیرِ غور رہیں گے، جبکہ خطے میں کشیدگی اور انسانی بحران کی شدت بڑھے جانے کے خطرات برقرار ہیں۔

متعلقہ پوسٹ