فٹ بال بدل گیا، کرکٹ کیوں نہیں؟ انگلش کرکرز کی شراب کی عادت پر بحث

397921 1964360722


ستمبر 2005 میں جب انگلینڈ نے ایشز جیتی تو فاتح ٹیم نے لندن میں کھلی چھت والی بس پر سوار ہو کر جشن منایا۔ اس جشن کے دوران یہ فوراً واضح ہو گیا تھا کہ ہمارے بے حد سراہے جانے والے کرکٹرز نے اپنی سیریز جیت کا جشن کس انداز میں منایا تھا۔

رات بھر کی محفل کے اگلے دن کھلاڑی صرف ہلکے نشے میں نہیں تھے بلکہ مکمل طور پر دھت تھے۔ اس موسم گرما کے ہیرو اور علامتی شخصیت اینڈریو فلنٹوف بمشکل کھڑے ہو پا رہے تھے۔ بعد میں انہوں نے جوناتھن راس کے چیٹ شو میں اعتراف کیا کہ جب ان کے ساتھیوں کو وزیر اعظم مبارک باد دے رہے تھے، اسی دوران انہوں نے ڈاؤننگ سٹریٹ کے گلابوں والے باغ میں پیشاب کر دیا تھا۔

ہم اس پر خوب ہنسے تھے۔ ان کی سرخ آنکھیں اور شرارتی لڑکوں جیسا رویہ جلد ہی اس موسم گرما کی کہانی کا حصہ بن گیا۔ فریڈی فلنٹوف سب سے آگے تھے، ایسے نوجوان جو جانتے تھے کہ جشن کیسے منایا جاتا ہے۔ اور ہم انہیں اسی وجہ سے پسند کرتے تھے۔

اکیس سال بعد حالات کتنے بدل چکے ہیں۔ لارڈز میں نیوزی لینڈ کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ جیتنے کے بعد، اس وقت کے انگلینڈ کے کپتان بین سٹوکس اور فاسٹ بولر گس اٹکنسن نے ٹیم کے رات کے اوقات سے متعلق کرفیو کی خلاف ورزی کرنے اور اپنی فتح کا جشن منانے کے لیے وسطی لندن کے ایک نائٹ کلب جانے کا فیصلہ کیا۔ وہاں ان کی ایک مغرور رگبی کھلاڑی کے ساتھ جھڑپ ہو گئی۔ جب یہ خبر میڈیا تک پہنچی تو شراب پینے والے کرکٹرز کے بارے میں عوامی ردعمل 2005 کے مقابلے میں بالکل مختلف تھا۔

اس بار کوئی قہقہے نہیں تھے۔ ردعمل افسوس، مایوسی اور تمسخر پر مبنی تھا۔ لوگ غصے سے زیادہ دل گرفتہ تھے۔ آخر وہ اتنے غیر پیشہ ور کیوں تھے؟ ان میں توجہ اور نظم و ضبط کی اتنی کمی کیوں تھی؟ کیا وہ اپنے کوچ برینڈن میکلم کے حالیہ تبصرے سے بے خبر تھے کہ ’آدھی رات کے بعد کوئی اچھی بات نہیں ہوتی‘؟ کیا انہوں نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا تھا؟

بین سٹوکس کے بین الاقوامی کرکٹ سے چونکا دینے والی ریٹائرمنٹ کے اعلان اور برینڈن میکلم کے ٹیسٹ کوچ کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد، ٹیسٹ ٹیم کے کپتان کے طور پر اپنے دوسرے دور کے آغاز پر جو روٹ نے اپنے کھلاڑیوں پر زور دیا کہ وہ ’واقعی اچھے رول ماڈل اور اچھے انسان‘ بنیں۔

35 سالہ روٹ نے بی بی سی سپورٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’آپ ہمیشہ چاہتے ہیں کہ اپنے ملک کی بہترین ممکنہ انداز میں نمائندگی کریں۔ حالیہ ماضی میں شاید ہم چند مواقع پر اس معیار پر پورا نہ اتر سکے ہوں۔‘

’اس کی تلافی کا واحد طریقہ یہ ہی ہے کہ ہم واقعی اچھے رول ماڈل بنیں، اچھے انسان بنیں اور میدان میں انتہائی مضبوط کارکردگی دکھائیں۔‘

تاہم صرف پانچ دن بعد، انگلینڈ کے بولر برائیڈن کارس ایک نائٹ کلب سے متعلق واقعے کی وجہ سے تفتیش کی زد میں ہیں، جو ہفتے کے اختتام پر ڈربی میں پیش آیا۔ اتوار کو سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں مبینہ طور پر کارس کو ہتھکڑیاں لگائے ہوئے اور چار پولیس اہلکاروں کے ہمراہ ایک کلب سے باہر لے جاتے ہوئے دکھایا گیا۔

ڈرہم کے بولر، جو اس ہفتے پاکستان کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے لیے انگلینڈ کے سکواڈ میں شامل ہیں، اپنے ساتھی کھلاڑی میتھیو پوٹس کے ساتھ دیکھے گئے، جبکہ انگلینڈ کے سابق کپتان بین سٹوکس کی تصاویر بھی سامنے آئیں۔

انگلینڈ کے کرکٹرز کا شراب نوش افراد کے ایک گروہ کے طور پر بے نقاب ہونا اب مضحکہ خیز نہیں رہا۔ اور ایشز کے اُس یادگار موسم گرما کے بعد کے برسوں میں یہ معاملہ مزید تھکا دینے والا بنتا گیا ہے۔ ایک ہنگامہ خیز موسم گرما کے بعد اب ہم اس سب سے تنگ آ چکے ہیں۔

خصوصاً اس لیے کہ شراب کے بارے میں رویے کے معاملے میں کرکٹ دوسری کھیلوں کی سرگرمیوں سے بہت پیچھے دکھائی دیتی ہے۔ تین دہائیاں پہلے، انگلینڈ میں منعقد ہونے والے بین الاقوامی فٹ بال ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل زیادہ تر توجہ یورو 1996 سے پہلے ہانگ کانگ میں انگلینڈ کی ٹیم کے ایک ’باہمی روابط مضبوط بنانے‘ کے پروگرام کے دوران شراب نوشی سے بھرپور حرکات پر مرکوز تھی۔ گازا اور ڈینٹسٹ کی کرسی کی وہ مشہور تصویر ایک ایسے فٹ بال نظام کی علامت بن گئی تھی جو شراب میں ڈوبا ہوا تھا۔

تیس برس بعد، جب ہیری کین اور ان کے ساتھی اس موسم گرما کے ورلڈ کپ کی تیاری کر رہے تھے تو ایسی کوئی سرخی دیکھنے کو نہیں ملی۔ اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں۔ ان میں سے بیشتر شراب سے مکمل پرہیز کرتے ہیں اور اپنے جسم میں ایسی کوئی چیز ڈالنے سے گریز کرتے ہیں جو ان کی کارکردگی کو متاثر کر سکتی ہو۔ کپتان ہیری کین خود مثال قائم کرتے ہیں۔ میونخ کے سالانہ اکتوبرفیسٹ میں بائرن میونخ کے ساتھیوں کے ساتھ ان کی جو تصاویر ہر سال سامنے آتی ہیں، ان میں ان کے ہاتھ میں عموماً بیئر سے بھرا بڑا مگ ہوتا ہے، لیکن وہ اسے کبھی پی کر ختم نہیں کرتے۔ وہ سادہ لفظوں میں شراب کو ہاتھ ہی نہیں لگاتے۔

وہ اس معاملے میں اکیلے نہیں ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب تقریباً ہر بڑی پیشہ ور فٹ بال ٹیم میں ’ٹیوزڈے کلب‘ ہوا کرتا تھا، جہاں کھلاڑی ہفتے کے درمیان باقاعدگی سے جمع ہو کر شراب نوشی کرتے اور خود کو بے ہوشی کے قریب پہنچا دیتے تھے۔ اسے ’ٹیم بانڈنگ‘ کہا جاتا تھا۔ یورو 1996 کے دوران انگلینڈ کے شراب نوش کھلاڑیوں کے اہم رکن ٹونی ایڈمز یاد کرتے ہیں کہ جب انہیں اپنی شراب نوشی کی لت کا احساس ہو گیا تھا تب بھی وہ آرسنل کے پہلے ’ٹیوزڈے کلب‘ پروگرام میں شریک ہوئے۔ انہوں نے سوچا کہ ٹیم کے اتحاد کی خاطر اپنے ساتھیوں کو نصیحت کرنے کے بجائے ان کے ساتھ شریک رہنا بہتر ہوگا۔ فرق صرف یہ تھا کہ جب دوسرے کھلاڑی شراب منگواتے تو وہ کیپوچینو کافی منگوا لیتے۔ وہ یاد کرتے ہیں کہ 18 کپ کافی پینے کے بعد وہ تقریباً تین دن تک سو نہ سکے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مگر اب فٹ بال میں ایسے ’ٹیوزڈے کلب‘ نہیں رہے۔ کوئی بھی اعلیٰ کھلاڑی اپنی جسمانی فٹنس کو نقصان پہنچانے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ مانچسٹر یونائیٹڈ کے نئے تربیتی مرکز میں پیشاب خانوں میں سینسر نصب ہیں جو جسم میں پانی کی مقدار کا جائزہ لیتے ہیں۔ حتیٰ کہ گھر پر خاموشی سے ایک آدھ ڈرنک پینا بھی سپورٹس سائنس ڈیپارٹمنٹ کو خبردار کر سکتا ہے۔ فٹ بالرز اور شراب اب ایک دوسرے کے ہم سفر نہیں رہے۔

کرکٹ مگر اب بھی شراب کی گرفت میں دکھائی دیتی ہے۔ ایسے کھلاڑی جو گھنٹوں ڈریسنگ رومز میں وقت گزارتے ہیں، طویل غیر ملکی دوروں پر گھر سے دور رہتے ہیں اور اجتماعی رہائش اختیار کرتے ہیں، ان کے لیے شراب طویل عرصے سے ایک مشترکہ فرار کا ذریعہ رہی ہے۔ جیت ہو یا شکست، شراب ہر حال میں موجود۔ اور اگر میچ برابر ہو جائے، تو پھر مزید شراب۔

یہ حیران کن ہے کہ جہاں دوسرے کھیل غذا اور جسمانی صحت کے نئے رجحانات اپناتے ہوئے شراب سے دور ہو گئے ہیں، وہاں کرکٹ کی پیاس اب بھی ختم ہوتی نظر نہیں آتی۔ اور یہ صرف کاؤنٹی کرکٹ تک محدود نہیں بلکہ کھیل کے اعلیٰ ترین درجے تک پھیلا ہوا ہے۔

اس موسم سرما میں آسٹریلیا کا انگلینڈ کا افراتفری سے بھرپور دورہ بھی شراب سے جڑے واقعات سے بھرپور رہا۔ درحقیقت نوسا میں سیریز کے درمیان وقفے کے دوران بین ڈکیٹ کی ایک راہ گیر نے صبح سویرے ویڈیو بنائی، جس میں وہ اس قدر نشے میں تھے کہ واضح طور پر انہیں معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ کہاں ہیں۔ 2005 کے برعکس، یہ کھلاڑی کسی عظیم فتح کے جشن میں بوتل کا سہارا نہیں لے رہے تھے۔ یہ سب کچھ روزمرہ زندگی کا معمول معلوم ہوتا تھا۔

یہ معاملہ اس حد تک بڑھ گیا کہ ای سی بی کے سربراہ روب کی نے ٹیم کی شرمندہ واپسی کے بعد ڈریسنگ روم کے رویوں کا جائزہ لینے کے لیے باقاعدہ تحقیقات شروع کر دیں۔ وہ جس چیز کو ’شراب نوشی کی ثقافت‘ قرار دیتے تھے، اس سے خوش نہیں تھے۔ آسٹریلیا میں پیش آنے والی ان راتوں کی تکرار روکنے کے لیے نئے ضابطے متعارف کروائے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ سٹوکس ان اقدامات کے بھرپور حامی تھے۔ ویسے بھی انہیں ان ضابطوں کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے تھی، کیونکہ انہوں نے اعلان کیا تھا کہ گزشتہ سال ہی شراب مکمل طور پر چھوڑ چکے ہیں۔

مگر پھر وہی سٹوکس، ان قوانین کے نفاذ کے فوراً بعد، ان ہی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نظر آئے جن کی وہ حمایت کر رہے تھے۔ ماضی میں بیٹ اور گیند دونوں کے ساتھ کئی بار ہیرو ثابت ہونے والے، ڈریسنگ روم میں بے حد احترام رکھنے والے اور انگلش مزاحمت کی طاقتور علامت سمجھے جانے والے سٹوکس اس موقع پر مثال قائم کرنے کے بجائے ایسے دکھائی دیے جیسے کسی کی نظر سے بچنے کی کوشش کر رہے ہوں۔ اور اس واقعے کا سب سے زیادہ حیران کن پہلو یہ تھا کہ مبینہ جھگڑے میں جس شخص کو مکا مارا گیا، وہ ایم سی سی کا تعینات کردہ سکیورٹی گارڈ تھا، جس کا کام کھلاڑیوں کی حفاظت کرنا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب سٹوکس نے کرفیو توڑنے کا فیصلہ کیا تو انہوں نے اپنے ساتھ حفاظتی اہلکار بھی لے جانے کی احتیاط کی تھی۔

یہ معاملہ اچھے انجام تک نہیں پہنچے گا۔ کرکٹ حکام حالیہ تشہیر سے ناخوش ہوں گے اور اس تاثر پر برہم ہوں گے کہ یہ ایک ایسا کھیل ہے جو اپنے کھلاڑیوں کو قابو میں رکھنے سے قاصر ہے۔ سٹوکس اب ٹیم میں موجود نہیں، جبکہ جو روٹ نے اسی ماہ جنوری میں نافذ کیا گیا آدھی رات کا کرفیو ختم کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا ہے۔

سکائی سپورٹس سے گفتگو کرتے ہوئے روٹ نے کہا: ’کوئی کرفیو نہیں ہوگا۔ سچ کہوں تو مجھے نہیں لگتا کہ اسے کوئی بڑا مسئلہ بنایا جانا چاہیے۔‘

ممکن ہے انہیں اس بارے میں دوبارہ غور کرنے کی ضرورت پڑے۔

اس مضمون کا ایک ورژن پہلی بار جون میں شائع کیا گیا تھا۔





Source link

متعلقہ پوسٹ