
(24 نیوز)فوجی بھرتی کے خلاف احتجاج، تل ابیب میں اسرائیلی پولیس اور قدامت پسند یہودیوں میں جھڑپیں جاری ہیں۔
تل ابیب میں فوجی بھرتی کے خلاف احتجاج کے دوران اسرائیلی پولیس اور انتہائی قدامت پسند یہودی مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، پولیس کے مطابق مظاہرین نے بھرتی دفتر کے اطراف سڑکیں بند کردیں اور اہلکاروں کے ساتھ مزاحمت کی۔
اسرائیلی پولیس نے بتایا کہ تل ہاشومر میں قائم فوجی بھرتی دفتر کے قریب مظاہرین نے سڑکیں بلاک کر دیں، جس کے بعد پولیس نے انہیں منتشر کرنے کی کارروائی شروع کی، پولیس کے مطابق مظاہرین کو لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے متعدد بار منتشر ہونے کی ہدایت دی گئی، تاہم ان پر عوامی نظم میں خلل ڈالنے، راستے بند کرنے اور پولیس سے جھڑپوں کا الزام عائد کیا گیا۔
مزید پڑھیں:کینیا کے مرکزی ایئرپورٹ پر ملازمین کی ہڑتال،پروازیں منسوخ
مقامی میڈیا میں سامنے آنے والی ویڈیوز میں پولیس اہلکاروں کو مظاہرین کو سڑک سے زبردستی ہٹاتے ہوئے دیکھا گیا ہے،رپورٹس کے مطابق درجنوں انتہائی قدامت پسند یہودی مظاہرین صبح سویرے فوجی بھرتی دفتر جانے والی سڑکوں پر جمع ہوئے اور بعض افراد رات سے ہی وہاں موجود تھے تاکہ بھرتی کا عمل شروع ہونے سے روکا جا سکے۔
یہ احتجاج ایسے وقت میں جاری ہیں جب اسرائیلی سپریم کورٹ نے 25 جون 2024 کو فیصلہ دیا تھا کہ انتہائی قدامت پسند یہودیوں، جنہیں حریدی بھی کہا جاتا ہے، کو فوجی سروس سے عمومی استثنا نہیں دیا جا سکتا, عدالت نے یہ بھی قرار دیا تھا کہ ان مذہبی اداروں کو سرکاری مالی امداد روکی جا سکتی ہے جن کے طلبہ فوجی سروس سے انکار کرتے ہیں۔
حریدی یہودی اسرائیل کی تقریباً ایک کروڑ آبادی کا لگ بھگ 13 فیصد ہیں، ان کا مؤقف ہے کہ وہ اپنی زندگی تورات کی تعلیم و مطالعہ کے لیے وقف کرتے ہیں اور فوج میں شمولیت ان کی مذہبی شناخت اور طرزِ زندگی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، کئی سینئر مذہبی رہنما اپنے پیروکاروں کو فوجی بھرتی سے انکار کرنے کی ہدایت بھی دے چکے ہیں۔

