جنوبی کوریا کے شہری کو سیؤل کے ایک ڈپارٹمنٹل سٹور کے حوالے سے آن لائن بم کی جھوٹی دھمکی دینے اور اس کے نتیجے میں پولیس کی بڑی کارروائی کا سبب بننے پر تقریباً ایک کروڑ 25 لاکھ وان (6800 پاؤنڈز) ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
پولیس نے بدھ کو بتایا کہ سیؤل کی ایک عدالت نے فیصلہ سنایا ہے کہ مذکورہ شخص کو دھمکی سے نمٹنے کے لیے استعمال ہونے والے سرکاری وسائل کے استعمال کے اخراجات حکومت کو ادا کرنے ہوں گے۔
مجموعی طور پر ایک کروڑ 25 لاکھ 67 ہزار 881 وان کا بل بنا۔ اس میں پولیس اہلکاروں کا خرچہ، اوور ٹائم کی ادائیگیاں، ایندھن اور کھانے پینے کے اخراجات شامل ہیں۔
پولیس کا کہنا تھا کہ یہ پہلا موقع ہے جب کسی عدالت نے آن لائن دھمکی کے نتیجے میں اٹھنے والے سکیورٹی اخراجات کا مکمل ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہو۔
20 سے زیادہ عمر والے مذکورہ کوریائی شہری نے اگست 2025 میں یوٹیوب پر ایک دھمکی پوسٹ کی تھی جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ’شنسیگے ڈپارٹمنٹل سٹور کو اڑا دیں گے۔‘
ان کی اس پوسٹ کی وجہ سے پولیس نے سٹور کے ارد گرد کے علاقے میں 277 اہلکار بھیجے۔ اہلکاروں نے دھمکی کی تفتیش کے دوران اس جگہ کی تلاشی لی اور گشت بڑھا دیا۔
بالآخر پولیس نے دھمکی دینے والے اس شخص کا سراغ لگا لیا اور انہیں سیؤل سے تقریباً 290 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع صوبہ جنوبی گیونگسانگ کے علاقے ہادونگ سے گرفتار کر لیا۔ انہیں اس کے قبضے سے کوئی دھماکہ خیز مواد نہیں ملا۔
بعد ازاں پولیس نے آپریشن پر اٹھنے والے اخراجات کی وصولی کے لیے اس شخص کے خلاف سیؤل مقدمہ دائر کر دیا۔ عدالت نے حکومت کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے اسے پوری رقم ادا کرنے کا حکم دیا۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنوبی کوریائی حکام آن لائن دھمکیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے نمٹ رہے ہیں جن کی وجہ سے پولیس کی بھاری نفری تعینات کرنا پڑتی ہے۔
اخبار دا کوریا ہیرالڈ کے مطابق، پولیس نے 2025 میں ملک بھر میں آن لائن دی جانے والی بم کی 177 دھمکیاں ریکارڈ کیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اگست 2023 کے ایک اسی طرح کے واقعے میں، ایک آن لائن پوسٹ میں یہ جھوٹا دعویٰ کیا گیا تھا کہ جیجو سمیت پانچ ہوائی اڈوں پر دھماکہ خیز مواد رکھا گیا ہے۔ اس پر کارروائی کے لیے پولیس نے 571 اہلکار بھیجے۔
اس دھمکی کے ذمہ دار شخص کو گرفتار کر کے ڈھائی سال قید کی سزا سنائی گئی اور ایک الگ سول مقدمے میں انہیں دو کروڑ 92 لاکھ 80 ہزار وان (15900 پاؤنڈز) ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے یہ پوسٹ ’یہ دیکھنے کے لیے کی تھی کہ کیا پولیس مجھے پکڑ سکتی ہے؟‘
اس تازہ ترین فیصلے کے بعد، پولیس نے کہا کہ دھمکی دینے کے مالی نتائج عوام کی بجائے دھمکی والوں کو بھگتنے چاہییں۔
انہوں نے کہا کہ ’ایک مذاق کے طور پر دی گئی دھمکی بھی بڑے پیمانے پر پولیس کی تعیناتی کا تقاضا کر سکتی ہے، اور وہ خرچہ بالآخر ٹیکس دہندگان کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
’ہم عوامی سطح پر دھمکیاں دینے والوں کو سخت سزا دیں گے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کے لیے انہیں مکمل طور پر جوابدہ ٹھہرائیں گے۔‘

