وزارت خارجہ اسلام آباد میں اربوں روپے کے کھیل کے چرچے ۔ عرفان احمد خان وائس آف جرمنی

IMG 20260911 WA0628 2

پاکستان میں کرپشن کے قصے زبان زد عام ہیں ۔ ایک کرپشن وہ ہے جس کی تحقیق کے لئے حکومت کو نیب کا محکمہ قائم پڑا اور اس محکمہ کو چلانے کے لئے حاضر سروس لیفٹیننٹ جنرل کی خدمات حاصل کرنا پڑیں ۔ جب کرپشن اربوں میں پہنچ جاے تو پھر نیب کا ادارہ حرکت میں اتا ہے ۔ اخباروں میں کرپشن نواز کے نام تو بہت شائع ہوتے رہے ہیں لیکن لوگ سزا یافتہ کا نام تلاش کرنے میں ناکام ہی رہے ۔ دراصل نیب کے قوانین سیاست دانوں نے بناے ہیں اور انہوں نے قانون میں اتنی گنجائش رکھی ہے کہ اگر ملزم بارگینگ کر کے سزا سے بچنا چاہے تو اس کا راستہ موجود ہے اور ہم یہی دیکھتے چلے آ رہے ہیں کہ نیب کے ملزمان کچھ نہ کچھ رقم کی ادائیگی کرکے فرار کی راہ اختیار کر کے اپنے آپ کو مثال بننے سے بچاتے چلے آ رہے ہیں ۔
ایک دوسری قسم کی کرپشن وہ ہے جسں سے سرکاری دفاتر میں ضرورت مندوں کی راہ میں روکاوٹیں کھڑی کر کے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے اور عرف عام میں اس کو پٹواری کرپشن کے نام سے پکارا جاتا ہے ۔ اس کام کے لئے بہت سارے سرکاری دفاتر بدنام ہیں ایک سرکاری دفتر جو اس بدنامی سے بچا ہوا تھا وہ وزارت خارجہ کا محکمہ تھا ۔ جس میں 12 ارب روپے کی پٹواری کرپشن کے چرچے صحافتی حلقوں میں گردش کر رہے ہیں ۔ بیرونی دنیا میں اگر کوئی ڈاکومنٹ پیش کرنا ہو تو لازمی ہے کہ وہ وزارت خارجہ کی طرف سے تصدیق شدہ ہو ۔ بیرونی یونیورسٹیوں میں جو ہزاروں طالب علم داخلہ لیتے ہیں ان کو اپنے پاکستانی سرٹیفیکیٹس پر وزارت خارجہ کی مہر لگاوانا ضروری ہوتی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ جرمن یونیورسٹیوں میں دو ہزار کے قریب پاکستانی طالب علم اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ پاکستان میں شادیاں کرنے والوں کو بھی بہت سارے ڈاکمنٹس کی تصدیق شدہ کاغذات کی ضرورت پڑتی ہے ۔ ان ضرورت مندوں کی مجبوری سے فاہدہ اٹھاتے ہوے وزارت خارجہ کے تصدیق کرنے والے دفاتر کے ملازمین نے بقول ان کی اپنی رپورٹ کے 12 ارب روپے کمائے ہیں ۔ وزارت خارجہ نے اس کاغذات کی تصدیق کے لئے بڑی معمولی فیس رکھی ہوئی ہے جبکہ بعض افراد کو تیس تیس ہزار روپے ادا کرنے پڑے ۔ اسلام کے نام پر بنے اس ملک میں کوئی ایک ایسا محکمہ نہی جہاں رشوت کا بازار گرم نہ ہو ۔ رسول اللہ سے محبت کا دعویٰ کرنے والے ملک میں نہ تو دودھ خالص ملتا ہے اور نہ ملک کے ساتھ مخلص انسان ۔
صحافتی ذرائع نے بتایا ہے کہ 2025 کی آڈٹ رپورٹ میں لوگوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کی نشان دہی کی گئی تھی ۔ جس پر وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر احمد علی سروہی کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیٹی بنائی گئی جسمیں دو ڈائریکٹر اور ایک اکاؤنٹ آفیسر مسٹر تاج شامل تھے ۔ انہوں نے تحقیق کا دائرہ وسیع کرتے ہوے اس میں پولیس سپیشل برانچ ، انٹلی جنس بیور ۔ کی مدد سے خفیہ آپریشن بھی کئے اور ویڈیوز تیار کیں ۔ اس رپورٹ میں ایک تو جن 13 افراد کی نشان دہی کی گئی وہ نچلے درجے کے ملازم ۔ قاصد ۔ نائب قاصد ۔ سیکورٹی سٹاف ۔ جونیر کلرک وغیرہ ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان میں ان ممتاز شخصیات کے نام بھی شامل ہیں جو سفیر پاکستان ہونے کا اعزاز رکھتی ہیں ۔ احمد امجد علی ، عرفان شوکت ، مسٹر سعد ، شہباز کھوکھر ، امتیاز گوندل ، نجیب درانی ان میں ایڈیشنل سیکرٹری ، ڈائریکٹر جنرل ، سفیر صاحبان سب شامل ہیں ۔ رپورٹ کی کاپی جس صحافی کے ہاتھ لگی اس نے یہ نام رپورٹ میں سے پڑھ کر سناۓ ۔بیرونی دنیا میں اپنے ملک کا نام روشن کرنے والوں نے ملک کے اندر قوم کا سر جھکا دیا ۔ افسوس اس بات کا بھی ہے کہ یہ رپورٹ ماہ جولائی میں تیار ہوئی اور اس رپورٹ کو دبایا گیا ۔ کوئی ایکشن اس رپورٹ پر سامنے نہی آیا ۔ سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ کی ملازمت کے آخری دن تک انتظار کرنے کے بعد صحافتی ذرائع نے اس خبر کو عام کیا ۔ اب یہ ذمہ دار نئے سیکرٹری خارجہ عاصم افتخار کی ہے کہ وہ اس چھپے جرم کی حقیقت کے مطابق کاروائی کریں ۔ تاکہ بیرونی دنیا میں رہنے والے پاکستانیوں کا اپنے ملک کی اس اہم وزارت پر اعتماد بحال ہو ۔

متعلقہ پوسٹ