جنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی دستے بھیجنے سے انکار

li jay miwang d


صدر لی جے میونگ: بیرون ملک تنازع میں شامل نہیں ہوں گے، شہریوں اور تیل کی ترسیل کے راستوں کے تحفظ کے لیے کم از کم سرگرمیاں ضروری
سیول: جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے اعلان کیا ہے کہ سیول آبنائے ہرمز میں جنگی فوجی دستے تعینات نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ملک ایسی فوج نہیں بھیجے گا جو اسے بیرون ملک کسی تنازع یا جنگ میں کھینچ سکتی ہو۔
صدر لی نے یہ بھی کہا کہ جنوبی کوریا کو اپنے شہریوں اور اس اہم آبی گزرگاہ سے خام تیل کی آمد و رفت کے راستوں کے تحفظ کے لیے کم از کم سطح کی سرگرمیاں انجام دینی ہوں گی۔ ان کے مطابق سیول اپنی حفاظتی سرگرمیوں کو مضبوط بنانے کے لیے اضافی اقدامات کا جائزہ لے رہا ہے۔ جنوبی کوریا کا چیونگہائے ملٹری یونٹ پہلے ہی خطے میں اپنے فرائض کا دائرہ بڑھا چکا ہے۔
دی چوسن ڈیلی کے مطابق صدر نے زور دے کر کہا کہ جنگی تعیناتی نہیں ہوگی اور جنوبی کوریا غیر جانبدار رہنے کے اپنے اصول پر قائم رہے گا۔
آبنائے ہرمز جنوبی کوریا کے لیے ایک اہم توانائی گزرگاہ ہے۔ ایران کے ساتھ تنازع اور یمن کے حوثی گروپ کی بڑھتی سرگرمیوں نے جہاز رانی اور خام تیل کی فراہمی سے متعلق خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ صدر لی کے مطابق تنازع کے ابتدائی دور میں جب جہاز خطرناک پانیوں سے گریز کر رہے تھے، تو جنوبی کوریا کے لیے خام تیل کا حصول دشوار ہو گیا تھا۔

متعلقہ پوسٹ