۸۳ فیصد کینیڈین باشندے ٹرمپ کے کینیڈا پر عائد ٹیرف کو غلط سمجھتے ہیں: سروے

trump tariff canada d


واشنگٹن: امریکہ اور کینیڈا کے درمیان جاری تجارتی تنازع کے دوران ایک نئے سروے میں دونوں ممالک کے شہریوں کی بڑی تعداد نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈین درآمدات پر عائد نئے ٹیرف کو غلط قرار دیا ہے۔
Public First کے سروے کے مطابق 83 فیصد کینیڈین نے ٹرمپ کے ٹیرف کو غلط فیصلہ قرار دیا جبکہ صرف 8 فیصد نے اسے درست کہا۔ امریکہ میں بھی 56 فیصد جواب دہندگان نے ٹیرف کو غلط کہا جبکہ 26 فیصد نے اسے درست اقدام قرار دیا۔ یہ سروے 13 سے 15 ستمبر کے درمیان 4183 امریکی اور کینیڈین بالغوں سے کیا گیا تھا۔
کینیڈا میں 57 فیصد افراد نے اوٹاوا کی جانب سے جوابی ٹیرف کی حمایت کی جبکہ 24 فیصد نے رعایتیں دینے کو ترجیح دی۔ امریکہ میں 33 فیصد نے کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی کے جوابی ٹیرف کو درست جبکہ 31 فیصد نے غلط قرار دیا۔
واضح رہے کہ واشنگٹن اور اوٹاوا کے درمیان تجارتی مذاکرات اگست میں معطل ہو چکے ہیں، جس کے بعد کینیڈا نے تقریباً 27.6 ارب کینیڈین ڈالر مالیت کی امریکی درآمدات پر 15 سے 50 فیصد تک جوابی ٹیرف نافذ کیے، جبکہ امریکہ نے بھی 29 ستمبر سے نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم کارنی نے 24 ستمبر کو ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کی حکومت نے کینیڈا کو امریکہ کی 51ویں ریاست بنانے سے متعلق بیانات کے تناظر میں غیرمعمولی خطرات کا بھی جائزہ لیا ہے، تاہم فوجی کارروائی کے امکان کو انہوں نے "extreme tail risk” قرار دیا۔

متعلقہ پوسٹ