لندن: دنیا بھر میں ۳۰ کروڑ سے زائد کتابیں فروخت کرنے والے برطانوی مصنف اور سابق سیاست دان جیفری آرچر ۸۶ برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ ان کے ناشر ہارپرکولنز کے مطابق وہ پیر ۵ اکتوبر کو اپنے گھر میں "اچانک اور پُرسکون طور پر” چل بسے۔ اس وقت بھی وہ تحریری کام میں مصروف تھے۔
ان کا انتقال ایسے وقت ہوا جب ان کا آخری ناول "ایڈم اینڈ ایو” ۶ اکتوبر کو شائع ہونے والا تھا۔ ناشر کے مطابق موت سے ایک روز قبل وہ لندن کے لیسٹر اسکوائر تھیٹر میں قارئین سے ملاقات کی تقریب میں شریک ہوئے اور سیکڑوں کتابوں پر دستخط کیے۔ وہ رواں ہفتے چیلٹنہم لٹریچر فیسٹیول میں بھی اپنی نئی کتاب پر گفتگو کرنے والے تھے۔
ہارپرکولنز کے مطابق آرچر کی کتابیں ۱۱۹ ممالک میں فروخت ہوئیں۔ رائٹرز کے مطابق ان کی کتابیں مجموعی طور پر نیویارک ٹائمز کی بیسٹ سیلر فہرست میں ساڑھے ۵ سال تک شامل رہیں۔ ان کے معروف ناولوں میں "ناٹ اے پینی مور، ناٹ اے پینی لیس” (۱۹۷۶ء)، "کین اینڈ ایبل” (۱۹۷۹ء) اور "کلفٹن کرانیکلز” شامل ہیں۔
ہارپرکولنز یوکے کی چیف ایگزیکٹو اور آرچر کی ایڈیٹر کیٹ ایلٹن نے کہا کہ آرچر کا ایڈیٹر ہونا ان کے لیے ادبی زندگی کے عظیم اعزازات میں سے ایک تھا۔ ان کے مطابق وہ ایک عظیم کہانی کار تھے جو ہر مسودے کو بار بار بہتر بنانے کے لیے پُرعزم رہتے تھے۔
آرچر نے ۱۹۶۹ء میں ضمنی انتخاب جیت کر ۲۹ برس کی عمر میں رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے سیاسی سفر شروع کیا اور ۱۹۸۵ء میں کنزرویٹو پارٹی کے ڈپٹی چیئرمین بنے۔ ۱۹۸۶ء میں ایک اسکینڈل کے بعد ان کی سیاسی زندگی متاثر ہوئی۔ انہوں نے ڈیلی اسٹار کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ جیتا اور ۵ لاکھ پاؤنڈ ہرجانہ حاصل کیا، مگر بعد میں یہی مقدمہ ان کے خلاف کارروائی کا سبب بنا۔
۲۰۰۱ء میں عدالت نے انہیں جھوٹی گواہی اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے جرم میں ۴ سال قید کی سزا سنائی۔ انہوں نے تقریباً ۲ سال جیل میں گزارے اور اسی دوران "اے پرزن ڈائری” تحریر کی۔ رہائی کے بعد وہ ہاؤس آف لارڈز کے رکن رہے، جس کے تاحیات رکن وہ ۱۹۹۲ء میں بنائے گئے تھے، اور ۲۰۲۴ء میں ریٹائر ہوئے۔

