غزہ: حماس کے سینئر رہنما غازی حمد نے العربیہ کو انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں تنظیم کے عملاً (ڈی فیکٹو) قائد علی العمودی جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب اسرائیلی قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے۔
فلسطینی میڈیا کے مطابق حملے میں کئی خواتین سمیت پانچ افراد جاں بحق ہوئے۔ ہلاک شدگان کی فہرست میں علی العمودی کا نام شامل نہیں، تاہم ان کی حالت کے بارے میں صورتحال واضح نہیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ علی العمودی کو ایک رہائشی عمارت کے ایسے اپارٹمنٹ میں نشانہ بنایا گیا جو "دہشت گردانہ سرگرمیوں” کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔ اسرائیلی چینل ۱۲ کے مطابق کسی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہے اور اسرائیل یہ تصدیق کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ حملہ کامیاب رہا یا نہیں۔
علی العمودی جنگ سے قبل حماس کے میڈیا شعبے کے سربراہ تھے۔ ۲۰۲۴ء میں یحییٰ سنوار اور روحی مشتہی کی ہلاکت کے بعد وہ غزہ میں خلیل الحیہ کے نائب بنے، اور جولائی ۲۰۲۶ء میں الحیہ کے سیاسی بیورو کا سربراہ بننے پر انہیں غزہ میں عملاً قائد مقرر کیا گیا۔
۱۰ اکتوبر ۲۰۲۵ء کو نافذ ہونے والی جنگ بندی کے بعد غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جمعرات تک خلاف ورزیوں میں ۱,۴۳۹ فلسطینی جاں بحق اور ۵,۰۵۲ زخمی ہوئے ہیں۔

