خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگانے میں تاخیر کرتے تو بہت نقصان ہوجاتا، وزیراعظم

1793445605 وزیراعظم 7.webp


خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگانے میں تاخیر کرتے تو بہت نقصان ہوجاتا، وزیراعظم

‘دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کے عوام کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا’

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی لگانے کے فیصلے میں تاخیر کرتے تو بہت نقصان ہوجاتا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ن لیگ خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بطور وزیراعظم پاکستان اور قائد محمد نواز شریف کے کارکن کی حیثیت سے آپ سے مخاطب ہوں، خیبرپختونخوا وطن عزیز کا خوبصورت صوبہ اور یہاں کے عوام غیور، دلیر اور باوقار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ن لیگ نے صوبے میں جمہوری روایات کے فروغ کیلئے اہم کردار ادا کیا، 2013 کے انتخابات کے بعد نواز شریف نے صوبے میں اکثریتی جماعت کو حکومت بنانے کا موقع دیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ کے پی میں 13 برس تک پی ٹی آئی نے نعرے لگانے کے سوا کچھ نہیں کیا، صوبے میں 13برس برسراقتدار پارٹی کی طرف سے بلند و بانگ دعوے کیے گئے، گزشتہ 13برس کےدوران صوبےمیں کتنے اسپتال، کتنی یونیورسٹیاں بنائی گئیں؟ عوامی خدمت کے بجائے سیاسی نعروں اور تقسیم درتقسیم پر توجہ دی گئی۔

انکا کہنا تھا کہ پشاور سے کوہستان، ہزارہ اور جنوبی اضلاع تک عوامی مسائل عدم توجہی کا شکار رہے، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے خیبرپختونخوا کے عوام نے عظیم قربانیاں دیں، عوام پولیس، فوج اور سیاسی رہنماؤں نے دہشت گردی کے خلاف بےمثال قربانیاں دیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بھاری جانی اور معاشی نقصان اٹھایا۔

وزیراعظم نے کہا کہ نوازشریف کے دورحکومت میں پوری قوم اور اداروں نے ملکر دہشت گردی کا خاتمہ کیا، اے پی ایس پشاورکا انتہائی دردناک اور دل خراش واقعہ آج بھی ذہنوں میں تازہ ہے، بچوں کی شہادت کا سانحہ تاریخ میں ایک المناک مثال کے طورپرموجود رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کے عوام کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا، 2018میں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہوگیا تھا، گزشتہ ڈھائی سالوں میں ملک میں لانگ مارچ اور دھرنوں کی سیاست کی گئی۔

شہباز شریف نے کہا کہ 2014 کے دھرنے کے باعث چینی صدر کا دورہ پاکستان مؤخر ہوا، 2015 میں صدر شی جن پنگ کے دورہ پاکستان میں اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔

انکا کہنا تھا کہ ملک سے 20،20گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ نواز شریف کی شبانہ روز محنت کا نتیجہ تھا، 2019 اور 20میں افغانستان سے دہشت گردوں کو واپس لاکر بسایا گیا، دہشت گردی کے دوبارہ سراٹھانے سے ملک کو بہت نقصان پہنچا، دہشت گردی کے خلاف ملکر مقابلہ کرنے کی دعوت دی لیکن ہماری نہیں سنی گئی۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کے حوالے سے فیصلہ کرنے میں تاخیرکرتے تو بہت نقصان ہوجاتا، خیبرپختونخوا میں مجبوراً گورنر راج اور ایمرجنسی لگانا پڑی، صوبے میں پولیس کی 5 ہزار آسامیاں خالی ہیں۔



Source link

متعلقہ پوسٹ