’سینڈ پیپر گیٹ‘ سکینڈل کا پوری آسٹریلوی ٹیم کو علم تھا: عثمان خواجہ

399745 1999153487


عثمان خواجہ نے ہفتے کو دعویٰ کیا کہ 2018 میں کیپ ٹاؤن میں پیش آنے والے ’سینڈ پیپر گیٹ‘ سکینڈل کے بارے میں آسٹریلیا کی پوری ٹیم کو معلوم تھا اور یہ کہ اس سے پہلے پورٹ الزبتھ کے ٹیسٹ میں بھی یہی حربہ استعمال کیا گیا۔

سکینڈل کے سامنے آنے کے بعد کپتان سٹیو سمتھ، ان کے نائب ڈیوڈ وارنر اور کیمرون بینکرافٹ کو شرمندگی کے ساتھ وطن واپس بھیج دیا گیا تھا۔

کرکٹ آسٹریلیا کی تحقیقات میں یہی تین کھلاڑی تھے جن کے بارے میں ثابت ہوا کہ انہیں گیند سے چھیڑ چھاڑ کی اس سازش کا پیشگی علم تھا۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

سمتھ پر ایک سال کی پابندی لگی اور انہیں کپتانی سے ہٹا دیا گیا، وارنر کو 12 ماہ کے لیے معطل کر کے تمام قائدانہ ذمہ داریوں سے محروم کر دیا گیا، جبکہ بینکرافٹ پر نو ماہ کی پابندی عائد کی گئی۔

تاہم سابق اوپنر عثمان نے، جو اس سال 88 ٹیسٹ میچوں کے بعد ریٹائر ہوئے، سڈنی مارننگ ہیرالڈ کو بتایا کہ سب کو گیند سے چھیڑ چھاڑ کا علم تھا۔

اگلے ہفتے ان کی خود نوشت کی اشاعت سے پہلے، جس کا ایک باب اسی معاملے کے لیے مخصوص ہے، انہوں نے کہا ’ہم سب کو پتا تھا۔ بلے بازوں کو بھی، گیند بازوں کو بھی اور عملے کو بھی۔ ہم سب کو۔‘

پیٹ کمنز، مچل سٹارک، جوش ہیزل ووڈ اور نیتھن لائن سمیت گیند بازوں نے 2021 میں عوامی طور پر اس بات سے انکار کیا تھا کہ انہیں اس کا علم تھا۔

خواجہ نے بتایا کہ کیپ ٹاؤن ٹیسٹ کے بعد انہوں نے ڈریسنگ روم میں خطاب کرتے ہوئے ٹیم پر زور دیا کہ وارنر، سمتھ اور بینکرافٹ کو قربانی کا بکرا بنانے کی بجائے سب مل کر ذمہ داری قبول کریں۔

خواجہ نے کہا ’مثالی صورتحال میں میں یہ نہیں کرنا چاہتا۔ میں نہیں چاہتا کہ میں وہ شخص بنوں جو سچ بولے۔ مسئلہ یہ ہے کہ مجھے واقعی یقین تھا کہ آٹھ سال بعد تک سچ سامنے آ چکا ہو گا۔

شاید میں نے سوچا تھا کہ ڈیوی (وارنر) اسے بے نقاب کر دیں گے یا کوئی اور اس کے بارے میں زیادہ بات کرے گا۔ میں نے بس یہ نہیں سوچا تھا کہ نوبت یہاں تک پہنچے گی۔‘

اس وقت کے ہیڈ کوچ ڈیرن لیہمن نے اس بات کی تردید کی کہ اس سازش کا علم وسیع پیمانے پر تھا اور ساتھ یہ بھی کہا کہ ایک زمانے میں بین الاقوامی کرکٹ میں گیند سے چھیڑ چھاڑ ہر جگہ ہوتی تھی۔

انہوں نے قومی نشریاتی ادارے اے بی سی سے کہا ’میرا نہیں خیال کہ سب کو معلوم تھا۔ میں کھلاڑیوں کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔

’مجھے صرف وہی معلوم ہے جو میں جانتا ہوں اور میں یہ جانتا ہوں کہ گیند سے چھیڑ چھاڑ کرکٹ کا ایک بڑا حصہ تھی۔ اب یہ ماضی کی بات ہو چکی ہے لیکن اس سے یہ درست نہیں ہو جاتی اور ہم نے اس کی بھاری قیمت چکائی۔‘

’مطمئن‘

لیہمن نے، جو سیریز کے بعد مستعفی ہو گئے تھے، کہا کہ خواجہ کے دعوؤں نے ان کے، کھلاڑیوں اور ان کے اہل خانہ کے لیے ’بُری یادیں‘ تازہ کر دیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا ’میں ان خاندانوں اور ان لوگوں کے لیے دکھ محسوس کرتا ہوں جو اس میں شامل تھے کیونکہ یہ انہیں ایک بہت بُری جگہ پر واپس لے گیا ہے۔

’آٹھ سال گزر چکے ہیں۔ ایک وقت آتا ہے جب آپ آگے بڑھ جاتے ہیں اور میں اپنی زندگی میں آگے بڑھ چکا ہوں۔‘

اخبار کے مطابق کتاب میں خواجہ لکھتے ہیں کہ گیند کو کھردرا کرنے کے طریقوں پر پہلی بار بات چیت پورٹ الزبتھ میں دوسرے ٹیسٹ کے دوران ڈریسنگ روم میں ہوئی تھی۔

بات اس دریافت پر پہنچی کہ سینڈ پیپر مؤثر ثابت ہوتا ہے اور مبینہ طور پر اسی موقعے پر سمتھ یہ کہہ کر وہاں سے اٹھ گئے کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں جاننا چاہتے۔

اس کے بعد مبینہ طور پر بینکرافٹ نے پورٹ الزبتھ میں جنوبی افریقہ کی پہلی اننگز کے دوران سینڈ پیپر استعمال کرنے کی پیشکش کی، جہاں گیند نے نمایاں سوئنگ کیا۔

کرکٹ آسٹریلیا نے ایک بیان میں کہا کہ وہ اپنی ابتدائی تحقیقات کے نتائج سے ’مطمئن‘ ہے، تاہم نئے شواہد کے لیے دروازہ کھلا ہے۔

بیان میں کہا گیا ’کیپ ٹاؤن ٹیسٹ 2018 کے بعد گذشتہ آٹھ برسوں میں بہت زیادہ قیاس آرائیاں ہوتی رہی ہیں، جن میں گذشتہ ماہ جنوبی افریقہ میں ہونے والی سیریز کے دوران وسیع میڈیا کوریج بھی شامل ہے۔‘

’اس دوران کسی بھی متعلقہ معلومات کو پیش کرنے کا موقع مسلسل موجود رہا اور یہ اب بھی برقرار ہے۔‘

’اب تک کرکٹ آسٹریلیا کو پیش کی گئی تمام متعلقہ معلومات پر مناسب غور کیا گیا ہے اور ہم اپنے سالمیت کے عمل کے نتائج سے مطمئن ہیں۔‘





Source link

متعلقہ پوسٹ