نیویارک/واشنگٹن — 17 نومبر 2025: اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے ایک تاریخی قرارداد منظور کی ہے، جو غزہ علاقے میں ایک عبوری امن انتظامیہ اور بین الاقوامی استحکام فورس (ISF) کے قیام کی راہ ہموار کرتی ہے۔
قرارداد کے متن کے مطابق، ایک “Board of Peace” (امن کونسل) تشکیل دی جائے گی جو غزہ کی تعمیر نو، معیشتی بحالی اور غیر ریاستی مسلح گروپوں کی ہتھیار ڈالنے کی نگرانی کرے گی، اور اس کونسل کی صدارت ٹرمپ خود کریں گے۔
بین الاقوامی فورس کی منظوری دو سالہ مینڈیٹ کے ساتھ دی گئی ہے، اور اس فورس کا بنیادی کام ہتھیار بندی، شہری حفاظت اور انسانی امداد کے راستوں کی حفاظت ہوگا۔
قرارداد میں اس بات کا امکان بھی شامل ہے کہ غزہ کی تعمیر نو اور فلسطینی انتظامیہ میں اصلاحات کے بعد مستقبل میں فلسطینی خود ارادیت اور ریاست کے قیام کی راہ کھل سکتی ہے۔
اس قرارداد کو سلامتی کونسل میں 13 ارکان کی حمایت حاصل ہوئی، جبکہ روس اور چین نے ممتنع ووٹ دیا۔
ٹرمپ نے اس فیصلے کو “تاریخی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قدم بین الاقوامی امن کی نئی راہ کھولے گا۔
دوسری جانب، بعض ممالک اور تجزیہ کاروں نے بین الاقوامی فورس کے دائرہ کار (مینڈیٹ) اور امن کونسل کے اختیار پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان نے ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کو "امن کے لیے نادر موقع” قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس عمل میں فعال کردار ادا کرے گا

