تل ابیب / ابوظہبی
اسرائیل کے عبرانی زبان کے روزنامے معاریو نے انکشاف کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کی معروف دفاعی اور عسکری صنعت کی کمپنی البیت سسٹمز (Elbit Systems) کے ساتھ 2.3 ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ جاتی معاہدہ طے کر لیا ہے۔
اخبار کے مطابق یہ معاہدہ حالیہ برسوں میں اسرائیلی دفاعی صنعت کے بڑے معاہدوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس معاہدے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس سے قبل فرانسیسی انٹیلی جنس ذرائع یہ اطلاع دے چکے تھے کہ البیت سسٹمز نے اپنی تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی معاہدہ حاصل کیا ہے، تاہم اُس وقت خریدار ملک کا نام ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔
معاریو کے مطابق اس معاہدے کے تحت جدید دفاعی ٹیکنالوجی، ہتھیاروں کے نظام اور عسکری سازوسامان کی فراہمی شامل ہو سکتی ہے، اگرچہ معاہدے کی مکمل تفصیلات یا ہتھیاروں کی نوعیت کے بارے میں سرکاری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔
ابھی تک متحدہ عرب امارات یا اسرائیلی حکومت کی جانب سے اس رپورٹ کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں بدلتی ہوئی سیکیورٹی ترجیحات اور ابراہیم معاہدوں کے بعد اسرائیل اور خلیجی ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کی عکاسی کرتی ہے۔
یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں دفاعی معاہدوں، اسلحہ کی خرید و فروخت اور سیکیورٹی شراکت داریوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے، جسے علاقائی طاقتوں کے درمیان تزویراتی توازن سے جوڑا جا رہا ہے۔

