تحریر و اہتمام محمد سلیم
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعلقات میں ممکنہ نئی پیش رفت محض ایک مالی یا تکنیکی معاملہ نہیں، بلکہ یہ بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی اسٹریٹجک منظرنامے کی ایک اہم عکاس ہے۔ دو ارب ڈالر کے سعودی قرضے کو جے ایف-17 تھنڈر جنگی طیاروں کے معاہدے میں تبدیل کرنے پر جاری اعلیٰ سطحی مذاکرات، دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک نئے عملی مرحلے میں داخل کرنے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
یہ بات قابلِ غور ہے کہ یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب مشرقِ وسطیٰ شدید عدم استحکام کا شکار ہے۔ اسرائیل کی جانب سے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مبینہ حماس اہداف پر حملوں کے بعد پورے خلیجی خطے میں سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں علاقائی طاقتیں اپنی دفاعی حکمت عملیوں پر ازسرِنو غور کر رہی ہیں۔ ایسے حالات میں پاکستان اور سعودی عرب کے مابین گزشتہ برس طے پانے والا باہمی دفاعی معاہدہ اب عملی شکل اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
گفتگو کا مرکزی نکتہ جے ایف-17 تھنڈر طیارے ہیں، جو پاکستان اور چین کے مشترکہ تعاون سے تیار کیے گئے اور پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ میں تیار ہوتے ہیں۔ یہ طیارہ کم لاگت، جدید ایویانکس اور ملٹی رول صلاحیتوں کی بدولت پہلے ہی بین الاقوامی دفاعی منڈی میں توجہ حاصل کر چکا ہے۔ اگر سعودی عرب جیسے بڑے دفاعی خریدار کی جانب سے اس کا انتخاب کیا جاتا ہے تو یہ پاکستان کی دفاعی صنعت کے لیے ایک تاریخی کامیابی ہوگی۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ معاہدے کی مجموعی مالیت تقریباً چار ارب ڈالر ہو سکتی ہے، جس میں سے دو ارب ڈالر سعودی قرضے کی ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے شامل ہوں گے جبکہ باقی رقم ہتھیاروں، لاجسٹکس اور دیگر دفاعی سازوسامان پر خرچ کی جائے گی۔ اس ماڈل سے نہ صرف پاکستان پر مالی دباؤ کم ہوگا بلکہ دفاعی برآمدات کے ذریعے زرِمبادلہ کے حصول کا ایک نیا راستہ بھی کھلے گا۔
یہ پیش رفت پاکستان کے لیے اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ ملک اس وقت شدید معاشی دباؤ، قرضوں اور زرمبادلہ کی کمی جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ دفاعی برآمدات میں اضافہ نہ صرف معاشی استحکام میں معاون ثابت ہو سکتا ہے بلکہ پاکستان کو ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد دفاعی شراکت دار کے طور پر بھی مضبوط مقام دلا سکتا ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب بھی امریکی سیکیورٹی پالیسی کے مستقبل سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث اپنی دفاعی شراکت داریوں کو متنوع بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون میں اضافہ ریاض کو ایک ایسے اتحادی تک رسائی دیتا ہے جو نہ صرف عسکری تجربہ رکھتا ہے بلکہ مسلم دنیا میں ایک اہم اسٹریٹجک حیثیت بھی رکھتا ہے۔
اگر یہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو یہ محض طیاروں کی فروخت نہیں ہوگی، بلکہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی صنعتی تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔ ایک ایسا دور جس میں قرض اور امداد کی روایتی شکلیں بتدریج اسٹریٹجک شراکت داری اور مشترکہ مفادات میں تبدیل ہوتی نظر آئیں گی۔

