پاکستان کی خارجہ اور دفاعی پالیسی کی تاریخ اس بات کی واضح گواہ ہے کہ ریاست نے ہمیشہ قومی مفاد، خودمختاری اور سلامتی کو کسی بھی بیرونی دباؤ پر ترجیح دی ہے۔ یہ محض دعویٰ نہیں بلکہ عملی فیصلوں کی ایک طویل فہرست ہے جو عالمی طاقتوں کی خواہشات کے برعکس کیے گئے۔
امریکہ نہیں چاہتا تھا کہ پاکستان ایٹمی طاقت بنے، مگر پاکستان نے ایٹمی پروگرام مکمل کر کے اپنے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔ امریکہ کی خواہش تھی کہ پاکستان چین سے فاصلہ رکھے، لیکن آج پاک–چین دوستی ایک عالمی مثال بن چکی ہے۔ سی پیک جیسے منصوبے اور چین کے ساتھ دفاعی تعاون، جن میں جے ایف-17 تھنڈر جیسے جدید جنگی طیاروں کی مشترکہ تیاری شامل ہے، اسی آزاد خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہیں۔
اسی طرح پاکستان کو روس کے ساتھ دفاعی تعاون سے روکنے کی کوششیں کی گئیں، مگر اس کے باوجود پاکستان نے روسی جنگی ہیلی کاپٹر حاصل کیے۔ امریکہ کی خواہش رہی کہ پاکستان بھارت کے لیے اپنی فضائی حدود کھول دے، لیکن پاکستان نے قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ طالبان مذاکرات کے دوران بھی پاکستان اپنے اس اصولی مؤقف پر قائم رہا کہ بھارت کا اس عمل میں کوئی کردار نہیں ہو سکتا۔
آج بھی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو ’’رول بیک‘‘ کرنے کے مطالبات سامنے آتے رہتے ہیں، مگر پاکستان مسلسل میزائل تجربات کے ذریعے اپنے دفاعی عزم کا واضح پیغام دیتا رہا ہے۔ یہ تمام فیصلے کسی وقتی سیاسی فائدے کے لیے نہیں بلکہ ریاستی مفاد کو سامنے رکھ کر، خصوصاً مسلح افواج کی پیشہ ورانہ حکمتِ عملی کے تحت کیے گئے۔
اسی تناظر میں حالیہ دنوں میں ایک نیا اور گمراہ کن پروپیگنڈا سامنے آیا ہے، جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان نے نام نہاد ’’غزہ امن بورڈ‘‘ میں شمولیت اختیار کر کے حماس کے خلاف کسی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ دعویٰ حقائق کے منافی اور سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ترکی، سعودی عرب، مصر اور متحدہ عرب امارات سمیت متعدد اہم اسلامی ممالک بھی اس بورڈ کا حصہ ہیں، مگر ہدف صرف پاکستان کو بنایا جا رہا ہے۔ اس فورم میں اسلامی ممالک کی شمولیت کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ فلسطین کے مستقبل کا فیصلہ صرف امریکہ اور اسرائیل کی خواہشات کے تابع نہ رہے۔
’’غزہ امن بورڈ‘‘ کسی فوجی کارروائی یا مزاحمتی تنظیموں کے خلاف اقدام کے لیے نہیں، بلکہ غزہ میں جاری انسانی المیے، قتلِ عام اور جنگی جرائم کو روکنے کی ایک سفارتی اور سیاسی کوشش ہے۔ پاکستان کی شمولیت بھی اسی اصولی مؤقف کا تسلسل ہے جس کے تحت پاکستان ہمیشہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور مظلوموں کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔
مختصر یہ کہ پاکستان کی خودمختاری، دفاع اور خارجہ پالیسی نہ ماضی میں کسی کے دباؤ میں رہی ہے اور نہ آج ہے۔ غزہ امن بورڈ سے متعلق پھیلایا جانے والا پروپیگنڈا محض حقائق کو مسخ کرنے کی ایک کوشش ہے، جس کا زمینی حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

