اسلام آباد بیورو رپورٹ
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے انڈس اے آئی ویک 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں عالمی سطح پر ایک مضبوط مقام دلانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت 2030 تک اے آئی کے شعبے میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی، جو ملک میں اے آئی کے ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی 24 کروڑ آبادی میں سے 60 فیصد نوجوان ہیں۔ انہیں اے آئی کی جدید تربیت دے کر زراعت، صنعت، تجارت اور دیگر شعبوں میں انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ایک ملین غیر آئی ٹی پروفیشنلز کو اے آئی میں تربیت دینے، ایک ہزار مکمل فنڈڈ پی ایچ ڈی سکالرشپس فراہم کرنے اور وفاق کے علاوہ آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور بلوچستان کے پسماندہ علاقوں تک اے آئی کی تعلیم اور نصاب متعارف کرانے کا اعلان بھی کیا۔
انہوں نے اپنے سابق دورِ حکومت میں پنجاب میں کیے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ پانچ لاکھ طلبہ کو لیپ ٹاپس تقسیم کیے، پہلی آئی ٹی یونیورسٹی قائم کی، ای لائبریریز شروع کیں، لاہور میں سیف سٹی منصوبہ متعارف کرایا اور لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن سے شفافیت یقینی بنائی۔
وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے خطاب میں بتایا کہ پاکستان کی پہلی قومی اے آئی پالیسی ستمبر 2025 میں متعارف کرائی گئی اور اب اس پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے۔ نیشنل ڈیجیٹل کمیشن اور پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے ذریعے ڈیجیٹل روڈ میپ تیار کیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے سابقہ ادوار میں تھری جی، فور جی لائسنسز اور نیشنل سائبر سکیورٹی سینٹر کے قیام کا ذکر کیا اور کہا کہ اب اے آئی سے متعلق نیشنل ٹاسک فورس کے ذریعے ترقی کے نئے اہداف حاصل کیے جا رہے ہیں۔
انڈس اے آئی ویک 2026 (9 سے 15 فروری) پاکستان کو عالمی سطح پر اے آئی میں ایک قابلِ اعتماد پارٹنر کے طور پر پیش کرنے کا اہم پلیٹ فارم ہے، جہاں جامعات، سٹارٹ اپس اور عالمی کمپنیوں کے درمیان تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

