سندھ اسمبلی نے سب سے پہلے پاکستان بنانے کی قرارداد منظور کی۔ سندھ اسمبلی نے ہندوستان کے مسلمانوں سے ایک قرارداد کے ذریعے اپیل کی کہ وہ سندھ میں آکر آباد ہوسکتے ہیں۔ ہندوستان کے بٹوارے کے بعد جو مہاجر سندھ آئے سندھیوں نے انھیں خوش آمدید کہا مگر بعد میں صوبے میں لسانی تضادات ابھرے۔ برسرِ اقتدار حکومتوں میں سے کچھ نے ان تضادات سے اپنے مفادات پورے کیے اور کچھ حکومتوں نے ان تضادات کو حل کرنے کی کوشش کی۔ اب اگر سندھ کو توڑنے کی کوشش کی گئی تو پیدا ہونے والے تضادات کے اثرات اگلی صدی تک پڑیں گے۔
سندھ اسمبلی نے سندھ کو توڑنے کے خلاف قرارداد تو منظور کر لی مگر صوبے میں بدترین طرزِ حکومت اور عدم شفافیت کی جڑوں کو ختم کرنے کے بارے میں خاموشی اختیار کر لی۔ یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے کراچی شہر کی اونر شپ نہیں لی بلکہ یہ بھی تاثر پایا جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کے علاوہ دیگر جماعتیں برسر اقتدار آئیں تو انھوں نے بھی کراچی کی اونر شپ نہیں لی۔ کبھی کراچی لاہور سے ترقی کی دوڑ میں آگے تھا مگر حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ کراچی لاہور سے ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہے۔
پیپلز پارٹی نے مجموعی طور پر سندھ پر 28 سال حکومت کی ہے مگر پیپلز پارٹی کی حکومت نے اس شہر کو جدید شہر بنانے کے لیے سائنٹیفک بنیادوں پر جامع منصوبہ بندی نہیں کی۔ سب سے پہلے ایک پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبہ کا جائزہ لیا جائے تو حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ کراچی 70ء کی دہائی کے مقابلے میں ٹرانسپورٹ کے شعبے میں پیچھے چلا گیا ہے۔ جب پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت آئی تو اس شہر میں ڈبل ڈیکر بس، ٹرام اور سرکلر ریلوے چلا کرتی تھی۔
پیپلز پارٹی کی حکومت نے ٹرام وے سروس کو بند کر دیا۔ جنرل ضیاء الحق کے دورِ اقتدار میں پبلک ٹرانسپورٹ کے جدید ماس ٹرانزٹ پروگرام تبدیل کرنے کے لیے کچھ نہیں ہوا، جب پیپلز پارٹی نے 1988کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تو ماس ٹرانزٹ پروگرام کے بارے میں کچھ فائلوں میں کام ہوا تھا۔ جب بے نظیر بھٹو دوسری دفعہ 1993 میں وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوئیں تو فہیم الزماں ایڈمنسٹریٹر مقرر ہوئے۔ اس وقت وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے ماس ٹرانزٹ پروگرام کا سنگِ بنیاد رکھا تھا مگر پھر فہیم الزماں پیپلز پارٹی کے نئے کلچر میں خود کو ایڈجسٹ نہیں کرسکے۔
ان کے رخصت ہونے کے بعد ماس ٹرانزٹ پروگرام کہیں کھو گیا، سرکلر ریلوے بھی بند ہوگئی۔ کراچی بد امنی کا شکار ہوا۔ نجی شعبہ نے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری بند کردی۔ جب 2008میں پیپلز پارٹی کی تیسری دفعہ وفاق اور صوبہ سندھ میں حکومت بنی تو شہری چین کے مال برداری کے لیے تیار کردہ چنگ چی پر سفر کرنے پر مجبور ہوئے۔ چند سال قبل شرجیل انعام میمن کو پبلک ٹرانسپورٹ محکمہ دیا گیا۔ حکومت نے 300 بسیں اور 5 ڈبل ڈیکر بسیں چلا کر اپنا فریضہ پورا کر ڈالا۔ کراچی کو انڈر گراؤنڈ ٹرین، الیکٹرک ٹرام اور جدید بسوں کی ضرورت ہے مگر حکومت اس پر توجہ دینے کو تیار دکھائی نہیں دیتی۔
گزشتہ 18 برسوں کے دوران کراچی والوں کے لیے پانی ایک نیا مسئلہ بن گیا۔ شہر کے بہت سے علاقوں میں نلوں میں پانی نہیں آتا مگر شہر میں ہائیڈرنٹ قائم ہیں جہاں ٹینکروں کے ذریعے پانی فروخت ہوتا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے کراچی کے میئر سے یہ سوال کیا ہے کہ جب ہائیڈرنٹ پر پانی آتا ہے تو پھر نلوں میں کیوں نہیں آسکتا؟ حکومت پانی کی فراہمی کے نظام کو بجلی بند ہونے کی صورت میں آج تک متبادل نظام دینے میں ناکام رہی ہے۔
پیپلز پارٹی کی حکومت کی منصوبہ بندی کتنی اعلیٰ ہے اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ10 سال قبل اربوں روپے سے یونیورسٹی روڈ کی تعمیر کا ٹھیکہ دیا گیا اور مشکل سے یہ سڑک تیار ہوئی۔ سندھ حکومت کو ریڈ لائن بنانے کا خیال آیا اور اس نئی سڑک کو پھر توڑنے کا ٹھیکہ دیا گیا اور اب 7 سال ہونے کو ہیں مگر یہ منصوبہ نامکمل ہے۔ لاکھوں افراد روزانہ اس علاقے سے گزرتے ہوئے ایسی اذیت سے گزرتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ ہاؤس کے اکابرین اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ اسی طرح مینا بازار کریم آباد انڈر پاس کا منصوبہ مسلسل التواء کا شکار ہے۔
ایک اور اہم مسئلہ سندھ میں ملازمتوں کا ہے۔ انگریز دور سے نافذ کردہ قانون کے تحت ہر ضلع میں گریڈ 1 سے گریڈ 16 تک کی آسامیاں اس ضلع کے شہریوں کے لیے مختص کرنا ضروری ہے مگر پیپلز پارٹی کی حکومت نے اس قانون کو بری طرح پامال کیا۔ اے جی سندھ کے ایک اعلیٰ افسر کا کہنا ہے کہ اس قانون شکنی پر حکومت سندھ پر گرفت ہوسکتی ہے۔ سندھ حکومت کی یہ اتنی بڑی خلاف ورزی ہے کہ جب سندھ ہائی کورٹ کے سنگل بنچ نے جو موجودہ چیف جسٹس ظفر راجپوت پر مشتمل ہے اس طریقہ کار کو غیر قانونی قرار دیا تو سندھ حکومت نے اس فیصلے کے خلاف اپیل تک نہیں کی۔
سندھ پبلک سروس کمیشن کی بدحالی پر تو سندھ ہائی کورٹ مفصل فیصلہ دے چکا ہے۔ اس کمیشن میں شفافیت کا مکمل فقدان پایا جاتا ہے۔ وفاقی شریعت کورٹ کے سابق چیف جسٹس آغا رفیق جو صدر آصف زرداری کے بچپن کے دوست ہیں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ جب انھوں نے کمیشن کا نظام کرپشن سے پاک کرنے کی کوشش کی تو انھیں حقائق کا اندازہ ہوا اور وہ چھ ماہ بعد ہی مستعفیٰ ہوگئے۔ ذرائع ابلاغ میں مسلسل یہ خبریں آتی رہتی ہیں کہ صوبے میں ملازمتیں فروخت ہوتی ہیں۔ سابق صوبائی وزیر تعلیم پیر مظہر الحق کے دور میں سیکڑوں افراد کی اساتذہ کی حیثیت سے بھرتی اور پھر ان کی برطرفی اور ان افراد کے ملازمت کے لیے لاکھوں روپے بطور رشوت دینے کی داستانیں بہت سے حقائق کو اجاگر کرتی ہیں۔
کراچی میں عمارتوں کا گرنا عام سی بات ہے مگر ہر دو چار مہینے بعد کسی نہ کسی عمارت میں آگ لگ جاتی ہے۔ جب کوئی حادثہ ہوتا ہے تو کبھی بھی احتساب کا عمل منطقی انجام کو نہیں پہنچا۔ گزشتہ سال لیاری میں ایک عمارت گری تھی۔ حکومت نے معاملے کو رفع دفع کرنے کے لیے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے کچھ افسروں کی گرفتاری کا فیصلہ کیا۔ یہ افسر چند دن جیل میں مہمان رہے۔ ناقص چالان کی بناء پر باعزت بری کر دیے گئے۔ گل پلازہ کے حادثے کے بعد ٹریفک کے ناقص انتظامات پر ڈی آئی جی ٹریفک کو معطل کر دیا گیا مگر وہ پھر بحال ہوگئے۔ سندھ میں قانون کی عملداری کا اندازہ ایک انگریزی اخبار میں کراچی میں زمینوں پر قبضے کے بارے میں شائع ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ کے مندرجات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس رپورٹ میں تحریر ہے کہ بلوچستان اسمبلی کے ایک سابق رکن کی مرضی کے بغیر ضلع غربی میں کسی پولیس افسر کا تقرر نہیں ہوسکتا۔
کراچی میں سیوریج کا نظام اور کوڑے کے ٹیلوں کا معاملہ امریکا کے اخبارات تک پہنچ گیا۔ واٹر بورڈ کے پاس سیوریج کی لائنوں کی تبدیلی کے لیے اگست کے مہینے میں فنڈز نہیں ہوتے۔ حکومت نے کوڑا کرکٹ اٹھانے کے لیے ایک کارپوریشن بنائی۔ اپنے چند افسروں کو لاکھوں روپے تنخواہ اور مراعات پر اعلیٰ عہدوں پر تعینات کیا مگر شہر کا کون سا علاقہ ہے جہاں کوڑے کے ڈھیر نہ ہوں اور سڑک پر گندا پانی نہ بہہ رہا ہو۔ جب بارش ہوتی ہے تو شہر میں ہر طرف پانی ہی پانی ہوتا ہے۔
اس گندگی کی بناء پر ایک طرف کتوں کی آبادی بہت بڑھ گئی ہے اور کراچی شہر میں سیکڑوں افراد ہر سال کتوں کا شکار ہوتے ہیں۔ سندھ سیکریٹریٹ میں شام کو رونق زیادہ ہوتی ہے، جو سرکاری ملازمین عمرہ، حج اور زیارتوں پر جاتا ہے اسے این او سی کے لیے ’’ ہدیہ‘‘ دینا پڑتا ہے۔ جو ملازم ریٹائر ہوجائے اور جو ملازم انتقال کرجائے تو اس کے لواحقین کو پنشن کی فائل مکمل کرنے کے لیے ایجنٹوں کی خدمات حاصل کرنا پڑتی ہیں۔ جنرل یحییٰ خان کی حکومت میں اندرون سندھ کی پسماندگی کی بناء پر ملازمتوں اور پروفیشنل کالجوں میں کوٹہ سسٹم نافذ کیا گیا۔ اب ہر شہر میں یونیورسٹی قائم ہے۔ اندرون سندھ کے تعلیمی اداروں کا معیار بلند ہوگیا ہے تو کوٹہ سسٹم کا جواز فراہم کرنا ضروری ہے۔ تھرپارکر سندھ کا پسماندہ ترین ضلع ہے۔ اسی طرح ایک یا دو اضلاع میں غربت کی شرح زیادہ ہے۔
اس بات کی تحقیقاتی ہونی چاہیے کہ گزشتہ 18 برسوں میں ان اضلاع کی ترقی پر کتنی رقم خرچ ہوئی اور اس کے کیا نتائج نکلے۔ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ سے جب ایک ملاقات میں یہ سوال کیا گیا کہ کراچی میں روٹی کیوں مہنگی ہے تو انھوں نے کہا کہ سندھ کے افسروں میں کام کرنے کی اہلیت نہیں مگر یہ بیوروکریسی تو سب کوٹہ سسٹم کے تحت آئی ہے۔ بدترین طرزِ حکومت کا کیا جواز ہے؟ عجیب بات ہے کہ صدر ملک کے آئینی صدر ہیں مگر وہ پیپلز پارٹی کی قیادت کرتے ہیں۔ ایوانِ صدر میں بلاول بھٹو پیپلز پارٹی کی حکومت کی کارکردگی پر کانفرنس کرتے ہیں۔ تمام گورنر اپنی جماعتوں کی سیاست کرتے ہیں۔
صدر اور گورنر صاحبان کو اپنی جماعت کی سیاست کے بجائے آئینی کردار ادا کرنا چاہیے۔ شہری مسائل کا حل دنیا کے جدید شہریوں کی طرح نچلی سطح کے اختیار تک کی کارپوریشن کے قیام میں ہے جو مکمل طور پر خود مختار ہو اور پورا کراچی اس کے دائرہ کار میں آتا ہو۔ صوبائی وزراء کہتے ہیں کہ کراچی میں چھوٹا مسئلہ بڑا بن جاتا ہے۔ پہلے آمر ایوب خان کو بھی یہی شکایت تھی۔ سندھ اسمبلی میں اس قرارداد کی منظوری سے یہ سازش ناکام نہیں ہوگی بلکہ اس کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے ۔

