افغانستان کی نمک حرامی اور آپریشن غضبِ للحق

کالم نگار: محمد شہزاد بھٹی

​تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ احسان فراموشی کی سزا ہمیشہ ذلت اور رسوائی ہوتی ہے اور آج پاک افغان سرحد پر یہی تاریخ خود کو ایک عبرت ناک سبق کے طور پر دہرا رہی ہے۔ پاکستان نے گزشتہ چالیس سالوں سے زائد عرصے تک جس طرح افغان مہاجرین کو اپنے سینے سے لگایا، ان کے ساتھ نوالے بانٹے اور انہیں چھت فراہم کی، وہ انسانیت کی تاریخ میں بے مثال ہے مگر افسوس کہ جواب میں ہمیں شکر گزاری کے بجائے "فتنہ الخوارج” کے حملے اور سرحد پار سے برسنے والی گولیوں کا تحفہ ملا۔ سچ تو یہ ہے کہ "جس تھالی میں کھایا، اسی میں چھید کیا گیا”۔ افغانستان کی طرف سے ہمیشہ برادر اسلامی ملک کا لبادہ اوڑھ کر ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپا گیا لہٰذا اب ریاستِ پاکستان نے اپنی بقا اور سلامتی کے لیے "آپریشن غضبِ للحق” کا آغاز کیا، جس کا واحد مقصد ان تمام شرپسندوں کی کمر توڑنا ہے جو افغان سرپرستی میں پل رہے ہیں۔ اس آپریشن کا فوری پیش خیمہ شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر ہونے والا وہ بزدلانہ حملہ تھا، جس میں پاک فوج کے دو افسران سمیت سات جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ جب انٹیلی جنس معلومات سے یہ واضح ہو گیا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تو پھر "آپریشن غضبِ للحق” کا فیصلہ کیا گیا تاکہ دشمن کو اس کے گھر میں گھس کر نشانہ بنایا جا سکے۔ اس آپریشن میں پاک فضائیہ کے شاہینوں اور جدید ڈرون ٹیکنالوجی نے سرحد پار دہشت گردوں کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو تہس نہس کر دیا۔ اس قہر کے نتیجے میں افغان طالبان کی 22 سے زائد اہم سرحدی چوکیاں لمحوں میں ملبے کا ڈھیر بنا دی گئیں جبکہ جغرافیائی اور دفاعی لحاظ سے کلیدی اہمیت کی حامل 12 سرحدی چوکیاں اور بلند ترین پہاڑی چوٹیاں اب مکمل طور پر پاک فوج کے زیرِ اثر ہیں۔ ان علاقوں پر قبضے کے بعد اب پاکستان کو سرحد پار ہر نقل و حرکت پر واضح برتری حاصل ہو چکی ہے۔ اقوامِ عالم نے دیکھا کہ جب پاک فوج نے یلغار کی تو بلند بانگ دعوے کرنے والے یہ نام نہاد جنگجو اپنے جوتے اور شلواریں تک میدانِ جنگ میں چھوڑ کر گیدڑوں کی طرح دم دبا کر بھاگ نکلے۔ پاکستان نے دہائیوں تک لاکھوں افغانوں کا بوجھ اٹھایا مگر اب وقت آ گیا ہے کہ "نمک کھا کر نمکدان توڑنے والوں” کو ان کی اوقات یاد دلائی جائے۔ ریاست نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اب کسی بھی غیر قانونی باشندے کو یہاں رہنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ افغان طالبان کی اس مسلسل نمک حرامی نے ثابت کر دیا ہے کہ "آستین کے سانپ” کو چاہے جتنا مرضی دودھ پلا لو، وہ موقع ملتے ہی ڈسنے سے باز نہیں آتا۔ اب وقت پیچھے مڑنے کا نہیں بلکہ آگے بڑھنے کا ہے، آپریشن غضبِ للحق کے بعد ریاستِ پاکستان کو چاہیے کہ اپنی سرحدی پالیسی میں ایسی مستقل تبدیلیاں لائے جو آنے والی نسلوں کے تحفظ کی ضامن ہوں۔ محض فوجی آپریشنز کافی نہیں بلکہ اب سرحد پر "ون ڈاکومنٹ رجیم” (One Document Regime) کا سختی سے نفاذ ناگزیر ہو چکا ہے۔ کسی بھی غیر قانونی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے جدید ترین بائیو میٹرک سسٹم اور زیرو ٹالرنس پالیسی ہی وہ حل ہے جو مستقبل میں دہشت گردوں کو دوبارہ سر اٹھانے سے روکے گا۔ پاکستان نے دہائیوں تک برادر اسلامی ملک کے نام پر جو رعایتیں دیں، ان کا صلہ ہمیں دہشت گردی کی صورت میں ملا لہٰذا اب قومی سلامتی کو کسی بھی جذباتی وابستگی پر مقدم رکھنا ہو گا۔ افغانستان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اس کا معاشی اور دفاعی مستقبل صرف اور صرف پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات میں ہے نہ کہ شرپسندوں کی سرپرستی میں، پاکستان کا پیغام اب واضح ہے: ہم امن پسند ہیں مگر بزدل نہیں اور اب فیصلہ کابل کے ہاتھ میں ہے کہ وہ ہمسائیگی کا حق ادا کر کے شرافت کا راستہ اختیار کرے، ورنہ آپریشن غضبِ للحق کی بھڑکتی ہوئی آگ ان کے ہر تکبر اور جھوٹے غرور کو خاکستر کرنے کے لیے کافی ہے۔ ارضِ پاک کی حرمت پر نہ کبھی سمجھوتہ ہوا ہے اور نہ ہی کبھی ہو گا۔ اللہ کریم ملکِ پاکستان کی حفاظت فرمائے اور اس کو ہمیشہ شاد و آباد رکھے۔ آمین

متعلقہ پوسٹ