اسلام آباد (15 مارچ 2026)
پاکستان کی مسلح افواج نے آپریشن غضب للحق کے تحت افغان طالبان کے خلاف نئی کامیاب کارروائیاں کی ہیں۔ قندھار میں ایک سرنگ سمیت طالبان کے متعدد اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا جبکہ چترال سیکٹر میں افغان طالبان کی بادینی چیک پوسٹ کو چھوٹے اور بھاری ہتھیاروں اور کواڈ کاپٹروں سے مکمل طور پر مسمار کر دیا گیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور آئی ایس پی آر نے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا کہ آپریشن کے آغاز سے اب تک:
684 افغان طالبان ہلاک
912 زخمی
252 چیک پوسٹیں تباہ
44 چیک پوسٹوں پر پاکستانی فوج نے قبضہ کر لیا ہے
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ٹھکانے اور پوسٹیں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی جانب سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔ کارروائیاں بلا اشتعال حملوں اور سرحد پار دراندازی کے جواب میں کی گئیں۔
آپریشن غضب للحق کے تحت پاک فضائیہ اور بری فوج نے قندھار میں آئل سٹوریج، گولہ بارود کے ڈپو اور 205 کور کے بریگیڈ ہیڈکوارٹرز سمیت متعدد فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
اب تک پاکستانی فوج کے کسی اہلکار کے زخمی یا شہید ہونے کی کوئی اطلاع نہیں۔ آپریشن کے تمام اہداف حاصل ہونے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
حکومت کا موقف ہے کہ افغان طالبان رجیم پاکستان کی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ اسلام آباد نے کابل پر واضح انتباہ کر رکھا ہے کہ سرحد پار دہشت گردی بند نہ کی تو پاکستان مزید سخت اقدامات کرے گا۔

