’ایران مجھے اپنا سپریم لیڈر بنانا چاہتا تھا، میں نے منع کیا‘

Donald Trump


امریکی صدر ٹرمپ نے واشنگٹن میں ایک پروگرام کے دوران دعویٰ کیا کہ ایران کے لوگ انہیں اپنا سپریم لیڈر بنانا چاہتے ہیں، لیکن انہیں اس عہدے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

Donald Trump

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ (فوٹو: اے پی/پی ٹی آئی)

نئی دہلی: امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بدھ (25 مارچ) کی رات واشنگٹن میں ایک ریپبلکن فنڈ ریزر پروگرام کے دوران دعویٰ کیا کہ ایران کے لوگ انہیں اپنا سپریم لیڈر بنانا چاہتے ہیں، لیکن انہیں اس عہدے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

ٹرمپ نے نیشنل ریپبلکن کانگریشنل کمیٹی (این آر سی سی) کے سالانہ فنڈ ریزنگ ڈنر میں کہا،’میں کبھی کسی ملک کا ایسا سربراہ نہیں رہا جس نے اس عہدے کو حاصل کرنے کی خواہش اتنی کم رکھی ہو جتنی ایران کا سربراہ بننے کے لیے۔ ہم ان کی بات واضح طور پر سن رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں،’ہم آپ کو اگلا سپریم لیڈر بنانا چاہتے ہیں۔‘ نہیں، شکریہ! مجھے یہ نہیں چاہیے۔‘

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے معاہدہ قریب ہے، حالانکہ تہران نے ان کے 15 نکاتی جنگ بندی منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے اپنی الگ شرائط پیش کی ہیں۔

تاہم، ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی خبروں کی تردید کی ہے۔ وہیں، ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران امن مذاکرات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی مذاکرات کار اس بات کو عوامی طور پر تسلیم کرنے سے ڈر رہے ہیں، کیونکہ انہیں اپنے ہی ملک میں خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا،’وہ بات چیت کر رہے ہیں اور معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن اسے کہنے سے ڈرتے ہیں۔‘ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکہ سے مارے جانے کا بھی خوف ہے۔

ٹرمپ کا یہ بیان ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے اس بیان کے بعد آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا،’ہم مذاکرات کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔‘

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، مغربی ایشیا کے تنازعہ پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا،’میں نے وہ قدم اٹھایا جو پچھلے 47 برسوں میں کسی بھی صدر کو اٹھانا چاہیے تھا۔ کئی لوگوں نے کہا کہ وہ ایسا کرنا چاہتے تھے، لیکن ان میں ہمت نہیں تھی۔‘





Source link

متعلقہ پوسٹ