فلوریڈا کے گورنر رون ڈی سینٹس نے دہشت گرد تنظیموں کی شناخت اور طلبہ کی سزا سے متعلق نیا قانون پر دستخط کر دیے

go 070426 d


ٹامپا، فلوریڈا (انٹرنیشنل نیوز ڈیسک) — امریکی ریاست فلوریڈا کے ریپبلکن گورنر رون ڈی سینٹس نے پیر (6 اپریل 2026) کو ایک متنازع قانون پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت ریاستی عہدیداروں کو گروپس کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا اختیار مل گیا ہے۔ اس قانون کے تحت ایسی تنظیموں کی حمایت کرنے والے طلبہ کو سرکاری یونیورسٹیوں سے خارج کیا جا سکتا ہے۔
قانون (HB 1471) کے مطابق فلوریڈا ڈیپارٹمنٹ آف لاء انفورسمنٹ (FDLE) کے چیف آف ڈومیسٹک سیکیورٹی کو گھریلو (domestic) یا غیر ملکی (foreign) دہشت گرد تنظیم کا لیبل لگانے کی سفارش کرنے کا حق ہوگا۔ اس سفارش کی منظوری گورنر رون ڈی سینٹس اور کیبنٹ کے تین دیگر اراکین (اٹارنی جنرل، چیف فنانشل آفیسر اور ایگریکلچر کمشنر) کی اکثریت سے ہوگی۔
قانون کا مقصد ریاستی سلامتی کو مضبوط بنانا بتایا جا رہا ہے، لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسے آزادی اظہار پر حملہ قرار دیا ہے۔ کونسل آن امریکن اسلامی ریلیشنز (CAIR) نے اسے "draconian” اور آئینی طور پر ناجائز قرار دیا ہے۔ تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ قانون فری سپیچ اور ڈیو پروسیس کے حقوق کو محدود کرے گا اور سیاسی طور پر مخالف گروپس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
یہ قانون گورنر ڈی سینٹس کے دسمبر 2025 کے ایگزیکٹو آرڈر کی قانونی توسیع ہے جس میں انہوں نے CAIR اور مسلم برادرہڈ کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا (جسے بعد میں وفاقی عدالت نے روک دیا)۔ نئے قانون میں سرکاری یونیورسٹیوں کے طلبہ کو اگر کسی نامزد دہشت گرد تنظیم کی "پروموشن” کا الزام لگے تو انہیں خارج کر دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ متعلقہ اداروں کو ریاستی فنڈنگ بھی نہیں مل سکے گی۔
گورنر ڈی سینٹس نے قانون پر دستخط کرتے ہوئے کہا کہ فلوریڈا "جیہاد” یا دہشت گردی کی حمایت کرنے والوں کو ریاستی فنڈز اور تعلیم سے فائدہ نہیں اٹھانے دے گا۔ قانون 1 جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگا

متعلقہ پوسٹ