کالم نگار: محمد شہزاد بھٹی
انسانی تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ کچھ لمحے پوری نسلِ انسانی کے بچاؤ کا فیصلہ کرتے ہیں اور آج دنیا ایسے ہی ایک سنسنی خیز موڑ پر آ کھڑی تھی جہاں بارود کی کڑواہٹ ہواؤں کے زہر میں گھل چکی تھی، جب عالمی طاقتوں کے حوصلے جواب دے رہے تھے اور تیسری عالمی جنگ کے ہولناک سائے پوری زمین کو نگلنے کے لیے تیار تھے، عین اسی وقت پاکستان کی زمین سے امن کی وہ جرات مندانہ آواز بلند ہوئی جس نے عالمی طاقتوں کے ایوانوں میں ارتعاش پیدا کر دیا اور بڑی طاقتوں کے غرور کو صلح کی دہلیز پر جھکا کر ثابت کیا کہ تقدیرِ عالم بدلنے کا ہنر صرف ان مخلص لیڈروں کے پاس ہوتا ہے جن کے ارادے ہمالیہ سے بلند ہوں، وقت کی بے رحم لہریں تو چلتی رہتی ہیں مگر کچھ طوفان ایسے ہوتے ہیں جن کا رخ موڑنے کے لیے قدرت کسی خاص قیادت کا انتخاب کرتی ہے، یہ قدرت کا ایک ایسا چھپا ہوا راز ہے جو بارہا ظاہر ہوا کہ جب بھی پاکستان کو کسی بڑے عالمی معرکے میں سرخرو ہونا ہوتا ہے تو قیادت کی ذمہ داری شریف خاندان کے حصے میں ہی آتی ہے، چاہے وہ 1998 کا یادگار معرکہِ تکبیر ہو جب میاں نواز شریف نے تمام عالمی دباؤ کو پاؤں تلے روندتے ہوئے پاکستان کو دنیا کی پہلی اسلامی ایٹمی طاقت بنایا اور دشمن کے پاک بھارت جنگ کے خوابوں کو خاک میں ملا دیا، یا دہشت گردی کے خلاف آہنی عزم کی پہچان ‘بنیان المرصوص’ ہو جس نے پاک بھارت سرحدوں پر دشمن کی ہر چال و جارحیت کا منہ توڑ جواب دے کر پاکستان کی جیت کا پرچم لہرایا اور ثابت کیا کہ ہماری افواج ہر میدان میں ناقابلِ شکست ہیں۔ یاد رہے، اسی تسلسل میں یہ تاریخی سفارتی معجزہ جس نے آج پوری انسانیت کو محفوظ کر دیا ہے، جسے کل تک سیاسی مخالفین طنز کا نشانہ بناتے تھے آج وہی میاں شہباز شریف عالمی تباہی کے سامنے ایک ناقابلِ تسخیر دیوار بن کر ابھرے ہیں اور آج پوری دنیا "وَتُعِزُّ مَن تَشَاء وَتُذِلُّ مَن تَشَاء” کا جیتا جاگتا نمونہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے جہاں عالمی میڈیا اور سینکڑوں بین الاقوامی ٹی وی چینلز پر نجانے کتنی زبانوں میں پاکستان کا نام ایک ’نجات دہندہ‘ کے طور پر گونج رہا ہے، اس بے مثال سفارتی فتح کا سب سے بڑا اعتراف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا وہ حالیہ بیان ہے جس میں انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور سپہ سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی دوررس بصیرت کو تسلیم کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستانی قیادت سے تفصیلی مشورے کے بعد ہی انہوں نے دو ہفتے کی جنگ بندی کی تجویز مان لی ہے، اس امن معاہدے کی بنیاد یہ ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو عالمی تجارت کے لیے کھول دے، صدر ٹرمپ کا یہ ماننا کہ انہیں ایران کا ‘دس نکاتی امن فارمولا’ بھی مل چکا ہے جس پر اب عملی پیش رفت ممکن ہے دراصل پاکستان کی اس مسلسل محنت کا ثمر ہے جس نے عالمی معیشت کو سہارا دیا اور تیل کی قیمتوں میں 17 فیصد کمی لا کر دنیا کو معاشی بربادی کے منجدھار سے بچا لیا ہے، پاکستان نے ثابت کر دیا کہ امن کی طاقت ایٹم بم کی طاقت سے کہیں زیادہ موثر ہوتی ہے اور 10 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات اس ‘نئے عالمی نظام’ کا نقطہِ آغاز ہوں گے جہاں پاکستان امن کے سفیر کے طور پر دنیا کی رہنمائی کرے گا کیونکہ یہ وہ تاریخی لمحہ ہے جب پاکستان کا بنایا ہوا نظام امریکہ، اسرائیل اور ایران جیسے پرانے دشمنوں کو ہتھیار پھینک کر بات چیت کی میز پر لانے میں کامیاب رہا ہے، سچ تو یہ ہے کہ جنگ ایران، اسرائیل اور امریکہ کی تھی مگر جیت سراسر پاکستان کی ہوئی ہے، اے اہل وطن! آپ کو یہ عظیم کامیابی مبارک ہو کہ آپ کے ملک نے وہ تاریخی کارنامہ انجام دیا ہے جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی، یہ سب اس قیادت کی نیک نیتی کا نتیجہ ہے جس نے ثابت کیا کہ جب ارادے پختہ ہوں تو دنیا کی بڑی طاقتیں بھی آپ کی آواز پر لبیک کہتی ہیں، مختصر یہ کہ آج پاکستان نے اپنی سفارتی مہارت سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ صرف ایک ایٹمی طاقت ہی نہیں بلکہ عالمی امن کے قیام کا سب سے بڑا ضامن بن سکتا ہے، اس عظیم امن مشن کی کامیابی کے پیچھے وزیر اعظم شہباز شریف کی سیاسی کاوشیں اور سپہ سالار سید عاصم منیر کی تدبر سے بھرپور حکمت عملی قابلِ ذکر ہیں جنہوں نے مسلسل محنت سے ناممکن کو ممکن بنانے کی سعی کی، تاریخ جب بھی اس دور کا ذکر کرے گی تو یہ حقیقت ضرور لکھی جائے گی کہ ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی تھی مگر سفارت کاری، بصیرت اور مکالمے نے اسے تباہی کے گڑھے میں گرنے سے بچا لیا، اللہ تعالیٰ پاکستان کے وقار میں اضافہ فرمائے، اسے امن و استحکام کا گہوارہ بنائے اور ہمیں ہمیشہ انسانیت کی خدمت اور عالمی امن کے قیام کا ذریعہ بنائے رکھے۔ آمین

